ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 412

کرتا اور علیحدہ ہوتا ہو تو وہ بے شک نکل جاوے اور علیحدہ ہو جاوے اس کی خدا کو کیا پروا ہے وہ کہیں جگہ نہیں پا سکتا جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے حَکَم عدل ٹھہرایا ہے اور تم نے مان لیا ہے پھر نشانہ اعتراض بنانا ضعف ایمان کا نشان ہے۔حَکَم مان کر تمام زبانیں بند ہوجانی چاہئیں اگر مخالفوں کا خیال ہو تو انہوں نے اس سے پہلے کیا کچھ نہیں کہادجال، بے ایمان، کافر، اَکفر تک ٹھہرایا اور کوئی گالی باقی نہ رہی جو انہوںنے نہیں دی اور کوئی منصوبہ شرارت اور تکلیف دہی کا نہیں رہا جوا نہوں نے نہیں سوچا پھر اور کیا باقی رہ گیا جو غیروں کی پروا کرتا اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا جب تک خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ حَکَم کی بات کے سامنے اپنی زبانوں کو بند نہ کرو گے وہ ایمان پیدا نہیں ہوسکتا جو خدا چاہتا ہے اور جس غرض کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ میرایہ عمل اپنی تجویز اور خیال سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تفہیم سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے لئے ہے میں کسی اور حَکَم کی ضرورت نہیں سمجھتا جو چاہتا ہے اس کو قبول کرے اور جس کا دل مریض ہے وہ الگ ہو جاوے میں ایسے لوگوں کو صلاح دیتا ہوں کہ وہ کثرت سے استغفار کریں اور خدا سے ڈریں ایسانہ ہو کہ خدا ان کی جگہ اور قوم لاوے۔مسیح موعودؑ کے خلاف علماء سُوء کے فتوے اس کی صداقت کی دلیل ہیں ایک بار مجھے الہام ہوا تھا کہ کوئی شخص میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے ھٰذَا الرَّجُلُ یُـجِیْحُ الدِّیْنَ یہ شخص دین کی جڑھ اکھاڑتا ہے میں خوش ہوا کیونکہ آثار میں ایسا ہی لکھا ہے کہ مسیح اور مہدی کی نسبت ایسے فتوے دئے جائیں گے حجج الکرامہ میں ایسا ہی لکھا ہے اور ابنِ عربی نے لکھا ہے کہ جب مسیح نازل ہو گا تو ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا اِنَّ ھٰذَا الرَّجُلُ غَیَّـرَ دِیْنَنَا۔اور مجدّد صاحب کے مکتوبات دوم میں صاف لکھا ہے کہ مسیح جو کچھ بیان کرے گا وہ اسرارِ غامضہ ہوں گے اور لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں گے حالانکہ وہ قرآن سے استنباط کرے گا پھر بھی لوگ ا س کی مخالفت کریں گے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسے مسیح موعود کے ساتھ جمع کا ایک نشان ہے عوام کے خیال