ملفوظات (جلد 2) — Page 406
کیا کسوف خسوف کا کوئی چھوٹا نشان تھا؟ اس کے پور ا ہونے سے پہلے تو اس کو نشان قرار دیتے رہے مگر جب پورا ہو گیا تو اس کو بھی مشکوک کرنے کی کوشش کی بہرحال مخالفوں کی کور چشمی اور تعصّب کا کیا علاج ہو سکتا ہے ؟ اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ اس کے لئے یہ کوئی ابتلا نہیں ہو سکتا کیونکہ جس نے دمشق کے منارہ پر چڑھنے والے اور فرشتوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے زرد پوش مسیح کے اترنے کی حقیقت کو خدا کے فضل سے سمجھ لیا ہے اور جس نے خدا کی صفات والے دجال کا انکار کر کے دجال کی حقیقت حال پر اطلاع پا لی ہے اور ایسا ہی دابۃ الارض اور دجال کے متعلق ان لوگوں کے خانہ ساز مجموعوں کو چھوڑا ہے اور اس قدر باتوں پر جب وہ مجھ پر نیک ظن کرنے کے باعث الگ ہوگئے ہیں تو یہ امر ان کی راہ میں روک اور ابتلا کا باعث کیوں کر ہو سکتا ہے؟ یہ بھی یاد رکھو کہ اب بات صرف حُسنِ ظن تک نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ نے ان کو معرفت اور بصیرت کے مقام تک پہنچا دیا ہے اور وہ دیکھ چکے ہیں کہ میں وہی ہوں جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں۔دوست دشمن ، دورونزدیک،ہر مذہب و ملت کے لوگ ان کے گواہ ہیں۔زمین نے اپنے نشانات الگ ظاہر کئے آسمان نے الگ وہ علامات جو میرے لئے مقرر تھیں وہ سب پوری ہو گئیں پھر اس قدر نشانات کے بعد بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوتا ہے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تم میں سے ہرایک پر خدا نے ایسا فضل کیا ہے ایک بھی تم میں سے ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔کیا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا؟ ایک بھی نہیں پھر ایسی بصیرت اور معرفت بخشنے والے نشانوں کے بعد مجھ پر حُسنِ ظن ہی نہیں رہا بلکہ میری سچائی اور خدا کی طرف سے مامور ہو کر آنے پر تم علی وجہ البصیرۃ گواہ ہو اور تم پر حجت پوری ہو چکی ہے۔پھر وہ بڑا ہی بد قسمت اور ناد ان ہوگا جواتنے نشانوںکے بعد اس پیشگوئی کے پوراہونے پر ابتلا میں پڑے جو اس کے ازدیاد ایمان کا موجب اور باعث ہونی چاہیے جوکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم