ملفوظات (جلد 2) — Page 405
بھی مذہب ہے کہ اگر کوئی امر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اور محدثین اس کو موضوع یا مجروح ہی ٹھہراویں مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا اگر خدا تعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کر دی ہے جیسے لَامَہْدِیَ اِلَّا عِیْسٰی والی حدیث ہے محدثین اس پر کلام کرتے ہیں مگر مجھ پر خدا تعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور یہ میرا مذہب میرا ہی ایجاد کردہ مذہب نہیں بلکہ خود یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ اہل کشف و اہل الہام لوگ محدثین کی تنقید حدیث کےمحتاج اور پابند نہیں ہوتے خود مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ میں اس مضمون پر بڑی بحث کی ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ مامور اور اہل کشف محدثین کی تنقید کے پابند نہیں ہوتے ہیں تو جب یہ حالت ہے پھر میں صاف صاف کہتا ہوں کہ میں جو کچھ کرتا ہوں خدا تعالیٰ کے القا اور اشارہ سے کرتا ہوں۔یہ پیشگوئی جو اس حدیث تُـجْمَعُ لَہُ الصَّلٰوۃُ میں کی گئی ہے یہ مسیح موعود اور مہدی کی ایک علامت ہے یعنی وہ ایسی دینی خدمات اور کاموں میں مصروف ہو گا کہ اس کے لئے نماز (جمع) کی جاوے گی اب یہ علامت جب کہ پوری ہو گئی اور ایسے واقعات پیش آگئے پھر اس کو بڑی عظمت کی نگا ہ سے دیکھنا چاہیے نہ کہ استہزا اور انکار کے رنگ میں۔نشانِ صداقت پر علیٰ وجہ البصیرت گواہی دیکھو! انسان کے اپنے اختیار میں اس کی موت فوت نہیں ہے اب اس نشان کے پورا ہونے پر تویہ لوگ رکیک اور نامعقول عذر تراشتے ہیں اور اعتراض کے رنگ میں پیش کرتے اور حدیث کی صحت اور عدم صحت کے سوال کو لے بیٹھتے ہیں لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ اگر اس نشان کے پورا ہونے سے پہلے ہماری موت آجاتی تو یہی لوگ اسی حدیث کو جسے اب موضوع ٹھہراتے ہیں آسمان پر چڑھا دیتے اور اس سے زیادہ شور مچاتے جو اَب مچا رہے ہیں۔دشمن اسی ہتھیار کو اپنے لئے تیز کر لیتا لیکن اب جب کہ وہ صداقت کا ایک نشان اور گواہ ٹھہرتا ہے توا س کو نکما اور لاشَے قرار دیا جاتا ہے۔پس ایسے لوگوں کے لئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں انہوں نے تو صد ہا نشان دیکھے مگر انکار پر انکار کیا اور صادق کو کاذب ہی ٹھہرایااور کس نشان کو انہوں نے مانا جو اس کی امید ان سے رکھیں۔