ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 407

نے فرمایاتھا کہ آنے والے موعو دکایہ بھی ایک نشان ہے کہ اس کے لیے نمازجمع کی جائے گی۔پس تمہیں خدا کاشکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ نشان بھی پوراہوتاہواتم نے دیکھ لیا۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حدیث موضو ع ہے تومیںنے پہلے اس کی بابت ایک جواب تو یہ دیا ہے کہ محدثین نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اہلِ کشف اور مامور تنقید احادیث میںاُن کے اصولوںکے محتاج اور پابند نہیںہوتے توپھرجبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پراس حدیث کی صحت کوظاہر کر دیا ہے تواس پرزور دیناتقویٰ کے خلاف ہے۔پھر میںیہ بھی کہتا ہوںکہ محدثین خود ہی مانتے ہیں کہ حدیث میںسونے کے کنگن پہننے کی سخت ممانعت ہے مگر وہ کیا با ت تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صحابی کو سونے کے کنگن پہنادئیے۔چنانچہ اس صحابی نے بھی انکار کیا مگر وہ حضرت عمرؓ نے اُس کو پہناکر ہی چھوڑے۔کیا وہ اُس حرمت سے آگاہ نہ تھے ؟تھے اور ضرور تھے مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہزاروں حدیثوںکو قر بان کرنے کوتیار تھے۔اب غور کا مقام ہے کہ جب ایک پیشگوئی کے پوراہونے میں حرمت کا جواز گرا دیا تو بلا مطر و بلا عذر والی بات پر انکار کیوں؟ ایک نکتہ معرفت احادیث میںتو یہاں تک آیا ہے کہ اپنے خواب کو بھی سچا کرنے کی کوشش کرو چہ جائیکہ نبی کریمؐ کی پیشگوئی جس شخص کو ایسا مو قع ملے اوروہ عمل نہ کرے اور اس کوپورا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔وہ دشمن اسلام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذاللہ جھوٹاٹھہراناچاہتا ہے اورآپ کے مخالفوںکواعتراض کا موقع دینا چاہتا ہے۔صحابہؓکا مذہب یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوںکے پوراہونے پر اپنی معرفت اور ایما ن میں ترقی د یکھتے تھے اور وہ اس قد ر عاشق تھے کہ اگر آنحضرتؐسفر کو جاتے ا ور پیشگوئی کے طور پر کہہ دیتے کہ فلاں منزل پر نماز جمع کریں گے اور ان کو موقع مل جاتا تو وہ خواہ کچھ ہی ہوتا ضرور جمع کر لیتے اور خود آنحضرتؐہی کی طرف دیکھو کہ آپ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے کس قدر مشتاق تھے۔ہم کو کوئی بتائے کہ آپ حدیبیہ کی طرف کیوں گئے کیا کوئی وقت ان کو بتایا گیا تھا اور کسی میعاد سے اطلاع دی گئی تھی پھر کیا بات تھی؟ یہی وجہ تھی کہ آپؐچاہتے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی