ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 391

اور کمال دو قسم کے ہوتے ہیں یا بلحاظ حسن کے یا بلحاظ احسان کے۔پس وہ دونوں قسم کے کمال اس لفظ میں پائے جاتے ہیں۔دوسری قوموں نے جو لفظ خدا تعالیٰ کے لئے تجویز کئے ہیں وہ ایسے جامع نہیں ہیں او ریہی لفظ اللہ کا دوسرے باطل مذاہب کے معبودوں کی ہستی اور ان کی صفات کے مسئلہ کی پوری تردید کرتا ہے مثلاً عیسائیوں کو لو وہ جس کو اللہ مانتے ہیں وہ ایک عاجز ضعیف عورت کا بچہ ہے جس کا نام یسوع ہے جو معمولی بچوں کی طرح دکھ درد کے ساتھ ماں کے پیٹ سے نکلا اور عوارض میں مبتلا رہا۔بھوک پیاس کی تکلیف سے بے چین رہا اور سخت تکلیفیں اور دکھ اسے اٹھانے پڑے۔جس قدر ضعف اور کمزوریوں کے عوارض ہوتے ہیں ان کا شکار رہا آخر یہودیوں کے ہاتھوں سے پیٹا گیا اور انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔اب اس صورت کو جو یسوع کی ( عیسائیوں نے جس کو خدا بنا رکھا ہے ) انجیل سے ظاہر ہوتی ہے کسی دانش مند کے سامنے پیش کرو کیا وہ کہہ دے گا کہ بے شک اس میں تمام صفات کاملہ پائی جاتی ہیں اور کوئی نقص اس میں نہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ انسانی کمزوریوں اور نقصوں کا پہلا اور کامل نمونہ اسے ماننا پڑے گا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنے والا کب ایسے کمزور اور مصلو ب اور ملعون کو خدا مان سکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن عیسائیوں کے بالمقابل ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو سکتا ہی نہیں۔پھر آریہ مذہب کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پرمیشر وہ ہے جس نے ذرّات عالم اور ارواحِ عالم کو بنایا ہی نہیں بلکہ جیسے وہ ازلی ابدی ہے ویسے ہی ہمارے ذرّات جسم وغیرہ بھی خدا کے بالمقابل اپنی ایک مستقل ہستی رکھنے والی چیزیں ہیں جو اپنے قیام اور بقا کے لئے اس کی محتاج نہیں ہیں بلکہ ایک طرح وہ اپنی خدائی چلانے کے واسطے ان چیزوں کا محتاج ہے وہ کسی چیز کا خالق نہیںاور پھر اس بات کا سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جو خالق نہیں وہ مالک کیسے ہو سکتا ہے؟ اور ایسا ہی ان کا اعتقاد ہے کہ وہ رازق، کریم وغیرہ کچھ بھی نہیں کیونکہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اس کے کرموں کا پھل ملتا ہے اس سے زائد اسے کچھ مل سکتا ہی نہیں۔اب بتائو اس قدر نقص جس خدا میں پیش کئے جاویں عقل سلیم کب اسے تسلیم کر نے کے لئے