ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 390

حالت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں وہ سارے عیبوں اور برائیوں کا مجموعہ بنے ہوئے تھے اور صدیوں سے ان کی یہ حالت بگڑی ہوئی تھی مگر کس قدر آپ کے فیوضات اور برکات میں قوت تھی کہ تئیس برس کے اندر کل ملک کی کایا پلٹ دی یہ تعلیم ہی کا اثر تھا۔ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی اگر قرآن شریف کی لے کر دیکھی جاوے تو معلوم ہو گا کہ اس میں فصاحت بلاغت کے مراتب کے علاوہ تعلیم کی ذاتی خوبیوں اور کمالات کوا س میں بھر دیا ہے۔سورۂ اخلاص ہی کو دیکھو کہ توحید کے کل مراتب کو بیان فرمایا ہے اور ہر قسم کے شرکوں کا ردّ کر دیا ہے۔اسی طرح سورۂ فاتحہ کو دیکھو کہ کس قدر اعجاز ہے چھوٹی سی سورۃ جس کی سات آیتیں ہیں لیکن دراصل سارے قرآن شریف کا فن اور خلاصہ اور فہرست ہے۔اور پھر اس میں خدا تعالیٰ کی ہستی اس کی صفات دعا کی ضرورت اس کی قبولیت کے اسبا ب اور ذرائع مفید اور سود مند دعائوں کا طریق ، نقصان رساں راہوں سے بچنے کی ہدایت سکھائی ہے وہاں دنیا کے کل مذاہب باطلہ کا ردّ اس میں موجود ہے۔اکثر کتابوں اور اہل مذہب کو دیکھو گے کہ وہ دوسرے مذاہب کی بُرائیاں اور نقص بیان کرتے ہیں اور دوسری تعلیموں پر نکتہ چینی کرتے ہیں مگر ان نکتہ چینیوں کو پیش کرتے ہوئے یہ کوئی اہل مذہب نہیں کرتا کہ اس کے بالمقابل کوئی عمدہ تعلیم پیش بھی کرے اور دکھائے کہ اگر میں فلاں بُری بات سے بچانا چاہتا ہوں تو اس کی بجائے یہ اچھی تعلیم دیتا ہوں یہ کسی مذہب میں نہیںیہ فخر قرآن شریف ہی کو ہے کہ جہاں وہ دوسرے مذاہب باطلہ کا ردّ کرتا ہے اور ان کی غلط تعلیموں کو کھولتا ہے وہاں اصلی اور حقیقی تعلیم بھی پیش کرتا ہے جس کا نمونہ اس سورہ فاتحہ میں دکھایا ہے کہ ایک ایک لفظ میں مذاہب باطلہ کی تردید کر دی ہے۔سورۃ فاتحہ میں حسن و احسان کا کمال مثلاًفرمایا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ساری تعریفیں خواہ و ہ کسی قسم کی ہوں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزا وار ہیں اب اس لفظ کو کہہ کر یہ ثابت کیا کہ قرآن شریف جس خدا کو منوانا چاہتا ہے وہ تمام نقائص سے منزّہ اور تمام صفات کاملہ سے موصوف ہے کیونکہ اللہ کا لفظ اسی ہستی پر بولا جاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو ہی نہیں۔