ملفوظات (جلد 2) — Page 392
رضامند ہو سکتی ہے؟ اسی طرح سے جس قدر مذاہب باطلہ دنیا میں موجود ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کا جملہ خدا تعالیٰ کے متعلق ان کے کل غلط اور بے ہودہ خیالات و معتقدات کی تردید کرتا ہے۔فیضِ ربوبیت پھراس کے بعد رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کا لفظ ہے جیسا پہلے بیان کیا گیا ہے اللہ وہ ذات جمیع صفات کاملہ ہے جو تمام نقائص سے منزّہ ہو اور حسن اور احسان کے اعلیٰ نکتہ پر پہنچا ہو اہو، تاکہ اس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں اور روح کے جوش اور کشش سے اس کی عبادت کریں۔اس لئے پہلی خوبی احسان کی صفت رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے جس کے ذریعہ سے کل مخلوق فیض ربوبیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے مگر اس کے بالمقابل باقی سب مذہبوں نے جو اس وقت موجود ہیں اس صفت کا بھی انکار کیا ہے مثلاً آریہ جیسا ابھی بیان کیا ہے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ مل رہا ہے وہ سب اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور خدا کی ربوبیت سے وہ ہرگز ہرگز بہرہ ور نہیں ہے کیونکہ جب وہ اپنی روحوں کا خالق ہی خدا کو نہیں مانتے اور ان کو اپنے بقا و قیام میں بالکل غیر محتاج سمجھتے ہیں تو پھر اس صفت ربوبیت کا بھی انکار کرنا پڑا۔ایسا ہی عیسائی بھی اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ وہ مسیح کو اپنا رب سمجھتے ہیں اور رَبُّنَا الْمَسِیْحُ رَبُّنَاالْمَسِیْحُ کہتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جَـمِیْعُ مَافِی الْعَالَمِ کا رب نہیں مانتے بلکہ مسیح کو اس فیضِ ربوبیت سے باہر قرار دیتے ہیں اور خو دہی اس کو رب مانتے ہیں اسی طرح پر عام ہندو بھی اس صداقت سے منکر ہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک چیز اور دوسری چیزوں کو رب مانتے ہیں۔برہم سماج والے بھی ربوبیت تامہ کے منکر ہیں کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ کرنا تھا وہ سب یک بار کر دیا اور یہ تمام عالم اور اس کی قوتیں جو ایک دفعہ پیدا ہو چکی ہیں مستقل طور پر اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ ان میں کوئی تصرف نہیں کرسکتا اور نہ کوئی ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا ہے ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ اب معطل محض ہے غرض جہاں تک مختلف مذاہب کو دیکھا جاوے اوران کے اعتقادات کی پڑتال کی جاوے تو صاف طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ہونے کے قائل نہیں ہیں یہ خوبی جو اعلیٰ درجہ کی خوبی ہے اور جس کا مشاہدہ ہر آن ہو رہا ہے صرف اسلام