ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 338

بلکہ اس میں بہت ہی اعلیٰ درجے کے خوارق کی ضرورت تھی۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اپنے اندر ایک علمی سلسلہ رکھتے ہیں۔۱ ۱۳؍نومبر ۱۹۰۱ء ایمان کی حقیقت اور اثرات دوزخ اور بہشت کے ذکر سے سلسلہ کلام شروع ہوا۔فرمایا۔ایمان بڑی دولت ہے اور ایمان اس بات کو کہتے ہیں کہ اس حالت میں مان لیا جاوے جبکہ علم ابھی کمال کے درجہ تک نہ پہنچا ہو اور ابھی شکوک اور شبہات سے ایک جنگ شروع ہو۔پس ایسی حالت میں جو شخص تصدیقِ قلبی اور تصدیقِ لسانی سے کام لیتا ہے وہ مومن ہے اور حضرت احدیت میں اس کا نام راستباز اور صادق رکھا جاتا ہے اور اس کے اس فعل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے موہبت کے طور پر معرفت تامہ کے مراتب اس پر کھولے جاتے ہیں اور اصل بہشت اسی ایمان سے شروع ہوتا ہے چنانچہ قرآن شریف نے جہاں بہشت کا تذکرہ فرمایا ہے وہاں پہلے ایمان کا تذکرہ کیا ہے اور پھر اعمال صالحہ کا، اورایمان اور اعمال صالحہ کی جزا۔جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ( البقرۃ :۲۶) کہا ہے یعنی ایمان کی جزا جنّت اور اس جنّت کو ہمیشہ سر سبز رکھنے کے لئے چونکہ نہروں کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے وہ نہریں اعمال صالحہ کا نتیجہ ہیں اور اصل حقیقت یہی ہے کہ وہی اعمال صالحہ اس دوسرے جہان میں انہار جاریہ کے رنگ میں متمثل ہو جائیں گے۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر انسان اعمال صالحہ میں ترقی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا اور سر کشی اور حدود اللہ سے اعتدا کرنے کو چھوڑتا ہے اسی قدر ایمان اس کا بڑھتا ہے اور ہر جدید عمل صالح پر اس کے ایمان میں ایک رسوخ اور دل میں ایک قوت آتی جاتی ہے۔خدا کی معرفت میں اسے ایک لذّت آنے لگتی ہے اور پھر یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ مومن کے دل