ملفوظات (جلد 2) — Page 339
میں ایک ایسی کیفیت محبت الٰہی اور عشق خدا وندی کی اللہ تعالیٰ ہی کی موہبت اور فیض سے پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کا سارا وجود اس کی محبت اور سرور سے جو اس کا نتیجہ ہوتا ہے لبالب پیالہ کی طرح بھر جاتا ہے اور انوارِ الٰہی اس کے دل پر بکلّی احاطہ کر لیتے ہیں اور ہر قسم کی ظلمت اور تنگی اور قبض دور کر دیتے ہیں۔اس حالت میں تمام مصائب اور مشکلات بھی جو خدا تعالیٰ کی راہ میں ان کے لئے آتے ہیں وہ انہیں ایک لحظہ کے لئے پرا گندہ دل اور منقبض خاطر نہیں کر سکتے بلکہ وہ بجائے خود محسوس اللذّات ہوتے ہیں۔یہ ایما ن کا آخری درجہ ہوتا ہے۔بہشت اور دوزخ کی حقیقت ایمان کے انواعِ اوّلیہ بھی سات۷ ہیں اور ایک اور آخری درجہ ہے جو موہبت الٰہی سے عطا کیا جاتا ہے۔اس لئے بہشت کے بھی سات ہی دروازے ہیں اور آٹھواں دروازہ فضل کے ساتھ کھلتا ہے۔غرض یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بہشت اور دوزخ جو اس جہان میں موجود ہوں گی وہ کوئی نئی بہشت اور دوزخ نہ ہو گی بلکہ انسان کے ایمان اور اعمال ہی کا وہ ایک ظلّ ہیں اور یہی اس کی سچی فلاسفی ہے۔وہ کوئی ایسی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کے اندر ہی سے وہ نکلتی ہیں۔مومن کے لئے ہر حال میں اس دنیا میں بہشت موجود ہوتا ہے۔اس عالم کا بہشت موجود دوسرے عالم میں اس کے لئے بہشت موعود کا حکم رکھتا ہے۔پس یہ کیسی سچی اور صاف بات ہے کہ ہر ایک کا بہشت اس کا ایمان اور اعمال صالحہ ہیں جس کی اس دنیا میں لذّت شروع ہو جاتی ہے اور یہی ایمان اور اعمال دوسرے رنگ میں باغ اور نہریں دکھائی دیتی ہیں۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ اسی دنیا میں باغ اور نہریں نظر آتی ہیں اور دوسرے عالم میں بھی باغ اور نہریں کھلے طور پر محسوس ہوں گی۔اسی طرح پر جہنم بھی انسان کی بے ایمانی اور بد اعمالی کا نتیجہ ہے جیسے جنّت میں انگور، انار وغیرہ پاک درختوں کی مثال دی ہے ویسے ہی جہنم میں زَقُّوْم کے درخت کا وجود بتایا ہے۔اور جیسے بہشت میں نہریںا ور سلسبیل اور زنجبیلی اور کافوری نہریں ہوں گی اسی طرح جہنم میں گرم پانی اور پیپ کی نہریں بتائی ہیں۔ان پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایمان منکسر المزاجی اور اپنی