ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 337

المسیح الدجّال کی حقیقت فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ دجال بھی مسیح موعود کی طرح ایک موعود ہے اور اس کا نام المسیح الدجال ہے۔سورۃ تحریم میں جیسے مسیح موعود کے لئے بشارت اور نص موجود ہے۔اسی نص سے بطور اشارۃ النص کے دجال کے وجود پر ایک دلیل لطیف قائم ہوتی ہے یعنی جیسے مریم میںنفخ روح سے ایک مسیح موعود پیدا ہو ا اسی طرح اس کے بالمقابل ایک خبیث وجود کا ہونا ضروری ہے جس میں روح القدس کی بجائے خبیث روح کا نفخ ہوا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے بعض عورتوںکو رجا کی بیماری ہوتی ہے اور وہ خیالی طور پر اس کو حمل ہی سمجھتی ہیں یہاں تک کہ حاملہ عورتوں کی طرح سارے لوازم ان کو پیش آتے ہیں اور چوتھے مہینے حرکت بھی محسوس ہوتی ہے مگر آخر کو کچھ بھی نہیں نکلتا۔اسی طرح پر مسیح الدجال کے متعلق خیالات کا ایک بت بنایا گیا ہے اور قوت واہمہ نے اس کا ایک وجود خلق کر لیا جو آخر کار ان لوگوں کے اعتقاد میں ایک خارجی وجود کی صورت میں نظر آیا۔المسیح الدجّال کی حقیقت تو یہ ہے۔۵؍نومبر ۱۹۰۱ء آنحضرتؐکے نشانات نشانات کے متعلق آج صبح کی سیر میں یہ ذکر تھا کہ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ ( الانبیآء :۶) والی آیت پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے نشانات آپ کے زمانہ میں غیر مفید تھے۔اس کے متعلق شام کو پھر فرمایا کہ اَوَّلُوْنَ کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ اب زمانہ ترقی کرگیا ہے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سونٹے کا سانپ بنا کر دکھاتے تو وہ بھلا کب مؤثر ہو سکتا تھا۔اس قسم کے نشانات تو ابتدائے زمانہ میں کام آنے والے تھے جیسے ایک چھوٹے بچہ کے لئے جو پاجامہ سیا گیا ہے وہ اس کے بالغ ہونے پر کب کام آسکتا ہے۔اسی طرح پر وہ زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھااس قسم کے نشانات کا محتاج نہ تھا