ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 336

نماز پڑھتا ہے دو چار رکعت تو اس میں کچھ دل حاضر ہوتا ہے کچھ غیر حاضر مگر جس کام میں مَیں لگا ہوا ہوں اس کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو قائم کرنا ہے۔پھر سارا وقت حضور قلب میسر رہتا ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کہ میں شام تک دوچار لطیف باتیں حاصل نہ کر لوں۔بائبل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک پیشگوئی رات بہت بڑی رات گزر گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کی طرف جو تورات میں ہے اور آج تک کسی نے اس پر توجہ نہیں کی مگر خدا نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا۔پس اسی وقت میں نے تورات نکالی اور اس کو دیکھا جو لوگ علوم الٰہیہ اور اس کے استعارات سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو بے شک اس میں مزا آئے گا مگر جو حقائق سے حصہ نہیں رکھتے وہ اس پر ہنسی کریں گے۔وہ پیشگوئی اس طرح پر ہے کہ تورات میں لکھا ہے کہ جب ہاجرہؓکو اور اسماعیلؑ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام چھوڑ آئے تو ان کے پاس ایک پانی کی مشک دے کر چھوڑ آئے۔جب وہ ختم ہوگئی اور حضرت اسماعیلؑ پیاس کی شدت سے تڑپنے لگے اور قریب المرگ ہو گئے تو حضرت ہاجرہؓ ان کی اس حالت کو نہ دیکھ سکی اور کچھ فاصلے پر جا بیٹھی۔وہاں لکھا ہے کہ تِیر کے ٹپّے پر اس وقت ہاجرہ چلائی اور خدا کے فرشتہ نے اس کو پکارا اور کہا کہ اے ہاجرہ مت ڈر، اُٹھ لڑکے کو اٹھا۔غرض پھر ہاجرہ کو ایک کنواں نظر آیا جہاں سے اس نے مشک بھری۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ فرشتہ نے جو ہاجرہ کو کنواں دکھایا اسی میں ایک پیشگوئی تھی۔اس پر میرے دل میں فوراً یہ آیت گزری وَكُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ( اٰل عـمران :۱۰۴) ابراہیم کا پانی جب ختم ہو چکا تھا تو اسماعیل قریب المرگ ہو گیا۔اس وقت خدا نے اس سے بچا لیا اور ایک اور کنواں پانی کا اسے دیا گیا۔عرب والے بھی اسما عیلؑ کی اولاد ہونے کے سبب سے گویا اسما عیلی ہی تھے۔جب ہدایت اور شریعت کا ان میں خاتمہ ہو گیا اور قریب المرگ ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے ایک نئی شریعت ان پر نازل کی اور یہ اس آیت میں اشارہ ہے۔غرض یہ پیشگوئی ہے جس کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں کی۔۱