ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 332

نجات مل جاتی ہے او ریہی وجود حقیقی نجات ہوتی ہے جو سچی پاکیزگی کے بعد ملتا ہےکیونکہ جب تک شبہات سے نجات نہیں اس کو تاریکی سے نجات نہیں اور سچی پاکیزگی اسےمیسر نہیں اور وہ خدا کو دیکھ نہیں سکتا اس کی عظمت و ہیبت کا اس کے دل پر اثر نہیں ہو سکتا اور سچ تو یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھ نہیں سکتا اور جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت کو بھی محروم ہی ہو گا جیسے خدا نے خود فرمایا ہے مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى ( بنی اسراءیل:۷۳)اس سے یہ مراد تونہیں ہو سکتی کہ جواس دنیا میں اندھے ہیں وہ قیامت کو بھی اندھے ہی ہوں گے بلکہ۱ اس کا مفہوم یہی ہے کہ خدا کو ڈھونڈنے والوں کے دل نشانات سے ایسے منور کئے جاتے ہیں کہ وہ خدا کو دیکھ لیتے ہیں اور اس کی عظمت و جبروت کا مشاہدہ کر تے ہیں یہاں تک کہ دنیا کی ساری عظمتیں اور بزرگیاں ان کی نگاہ میں ہیچ ہو جاتی ہے او راگر خدا کو دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس سے اس دنیا میں اس کو حصہ نہیں ملا توا س دوسرے عالم میں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔پس اللہ تعالیٰ کو جیسا کہ وہ ہے کسی غلطی کے بدوں شناخت کرنا اوراسی دنیا میں سچے اور صحیح طور پر اس کی ذات وصفات کی معرفت حاصل کرنا ہی تمام روشنیوں اور تجلیات کی کلید ہے اسی سے وہ آگ پیدا ہوتی ہے جو پہلے انسان کی گنہ گار حالت پر موت وارد کر تی ہے اوراس کو جلا دیتی ہے اور پھر اس کو نور عطا کرتی ہے جس سے وہ گناہ کو شناخت کرتا اور اس کی زہر پر اطلاع پاکر اس سے ڈرتا اور دور بھاگتا ہے پس یہی وہ دو قسم کی آگ ہے جو ایک طرف گناہ کو جلاتی اور دوسری طرف نیکیوں کی قدرت عطا کرتی ہے اور اس کا نام جلال او ر جمال کی آگ ہے کیونکہ گناہ سے تو جلالی رنگ اورہیبت ہی سے بچ سکتا ہے۔جب یہ علم ہو کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزا میں شدید العذاب ہے اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ (البقرۃ:۴) ہےتو انسان پر ایک ہیبت سی طاری ہو جائے گی جو اس کو گناہ سے بچا لے گی اور جمال نیکیوں کی طرف جذب کرتا ہے جب کہ یہ معلوم ہوجائے کہ خدا تعالیٰ ربُّ العالمین ہے رحمٰن ہے رحیم ہے تو بے اختیار ہو کر دل اس کی طرف کھینچا جائے گا اور ایک سرور او ر لذّت کے ساتھ نیکیوں کا صدور ہونے لگے گا۔