ملفوظات (جلد 2) — Page 333
جیسے چاندی یا سونے کے صاف کرنے کے واسطے ضروری ہے کہ اسے کھٹائی میں ڈال کر خوب آگ روشن کی جاوے اس سے اس کا وہ سارا میل کچیل جو ملا ہوا ہوتا ہے فی الفور الگ ہو جاتا ہے اور پھر اس کو عمدہ اور خوبصورت زیور کی شکل میں لانے کے واسطے جو کسی حسین کے لئے بنایا جائے اس بات کی ضرورت ہے کہ پھر آگ دے کر اسے مفید مطلب بنایا جائے۔جب تک وہ ان دونوں آگوں کے بیچ میں رکھا نہ جائے وہ خوبصورت اور درخشاں زیور کی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔اسی طرح انسان جب تک جلالی اور جمالی آگ میں ڈالا نہ جائے وہ گناہ سوز فطرت لے کر نیک بننے کے قابل نہیں ہوتا۔اس لئے پہلے گناہ جلایا جاتا ہے اور پھر جمالی آگ سے نیکی کی قوت عطا ہوتی ہے اورپھر فطرت میں ایک روشنی اورچمک آتی ہے جو نیکی اور بدی میں تمیز بنا کر نیکی کی طرف جذب کرتی ہے۔اس وقت ایک نئی پیدائش ملتی ہے۔سورۃ الدہر میں اس پیدائش کی حالت کا بیان کافوری اور زنجبیلی شربت کی مثال سے دیا ہے چنانچہ پہلے فرمایا ہے اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا (الدَّہر:۶) یعنی مومن جو خدا کے نیک بندے ہیں وہ کافوری پیالے پیتے ہیں۔کافور کا لفظ اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ کَفَرَ ڈھانکنے کو کہتے ہیں اور کافور مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت ڈھانکنے والا۔ایسے ہی طاعون بھی ہے۔میں سمجھتا ہوں طاعون اس لئے نام رکھا ہے کہ یہ اہل حق پر طعن کرنے سے پیدا ہوتی ہے اور طاعون اور دیگر امراض وبائی ہیضہ میں کافور ایک عمدہ چیز ہے اور مفید ثابت ہوئی ہے۔غرض کافوری پیالے کا پہلے ذکر کیا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اول یہ بتایا جائے کہ کامل ہونے کے لئے کافوری پیالہ پہلے پینا چاہیے تاکہ دنیا کی محبت سرد ہو جائے اور وہ فسق و فجور کے خیالات جودل سے پیدا ہوتے تھے اور جن کی زہر روح کو ہلاک کرتی تھی دبائے جائیں اور اس طرح پر گناہ کی حالت سے انسان نکل آئے پس چونکہ پہلے میل کچیل کا دور ہونا ضروری تھا اس لئے کافوری پیالہ پلایا گیا۔اس کے بعد دوسرا حصہ زنجبیلی ہے۔زنجبیل اصل میں دو لفظوںسے مرکب ہے زنا اور جبل سےاور زنا لغت عرب میں اوپر چڑھنے کو کہتے ہیں اور جبل پہاڑ کو اور اس مرکب لفظ کے معنے یہ ہو ئے کہ پہاڑ پر چڑھ گیا اور یہ صاف