ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 331

خدا کی معرفت کاملہ فرمایا۔بے شک یہ بات ہے جس کو میں خود بھی بیان کرنا چاہتا تھا۔یہ بات کہ ایسا یقین کیونکر پیدا ہو؟ اس کے لئے اتنا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ ایسے یقین کے خواہش مند کے لئے ضروری ہے کہ وہ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ(التوبۃ: ۱۱۹) سے حصہ لے۔صادق سے صرف یہی مراد نہیںکہ انسان زبان سے جھوٹ نہ بولے یہ بات تو بہت سے ہندوؤں اور دہریوں میں بھی ہو سکتی ہے بلکہ صادق سے مراد وہ شخص ہے جس کی ہر بات صداقت اور راستی ہونے کے علاوہ اس کے ہر حرکات وسکنات و قول سب صدق سے بھرے ہوئے ہوں گویا یہ کہو کہ اس کا وجود ہی صدق ہو گیا ہو اور اس کے اس صدق پر بہت سے تائیدی نشان اور آسمانی خوارق گواہ ہوں چونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لئے جو شخص ایسے آدمی کے پاس جو حرکات و سکنات ، افعال و اقوال میں خدائی نمونہ اپنے اندر رکھتا ہے صحتِ نیت اور پاک ارادہ اور مستقیم جستجو سے ایک مدت تک رہے گا تو یقین کامل ہے کہ وہ اگر دہریہ بھی ہو تو آخر خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان لے آئے گا کیونکہ صادق کا وجود خدانما وجود ہوتا ہے۔انسان اصل میں اُنْسَان ہے یعنی دو محبتوں کا مجموعہ ہے ایک انس وہ خدا سے کرتا ہے دوسرا انس انسان سے۔چونکہ انسان کو تو اپنے قریب پاتا اور دیکھتا ہے اور اپنی ہی نوع کی وجہ سے اس سے جھٹ پٹ متاثر ہو جاتا ہے اس لئے کامل انسان کی صحبت اور صادق کی معیت اسے وہ نور عطا کرتی ہے جس سے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور گناہوں سے بچ جاتا ہے۔انسان کے دراصل دو وجود ہوتے ہیں ایک وجود تو وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں طیار ہوتا ہے اور جسے ہم تم سب دیکھتے ہیں جسے لے کر وہ باہر آجاتا ہے اور یہ وجود بلاکسی فرق کے سب کوملتا ہے لیکن ایک اور وجود بھی انسان کو دیا جاتا ہے جو صادق کی صحبت میں تیار ہوتا ہے یہ وجود بظاہر ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اسے چھو کر یا ٹٹول کر دیکھ لیں مگر وہ ایسا وجود ہوتا ہے کہ اس وجود پر ایک قسم کی موت وارد ہو جاتی ہے وہ خیالات وہ افعال اور حرکات جو اس سے پہلے صادر ہوتے تھے یا دل میں گزرتے تھے یہ ان سے بالکل الگ ہو جاتا ہے اور شبہات سے جو اس کے دل کو تاریک کئے رہتے تھے ان سے اس کو