ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 220

اصلاح کے لئے قرآن شریف بھیجا ہے۔اگر پھونک مار کر اصلاح کر دینا خدا تعالیٰ کا قانون ہوتا تو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک مکہ میں کیوں تکلیفیں اٹھاتے ابو جہل وغیرہ پر اثر کیوں نہ ڈال دیتے۔ابو جہل کو جانے دو ابو طالب کو تو آپ سے بھی محبت تھی۔غرض بے صبری اچھی نہیں ہوتی۔اس کا نتیجہ ہلاکت تک پہنچاتا ہے۔۱ ۲؍اگست۱۹۰۱ء (دارالامان میں ) آج جمعہ کا دن ہے۔صبح آٹھ بجے کے قریب ڈاکٹر رحمت علی صاحب ہاسپٹل اسسٹنٹ چھاؤنی میانمیر تشریف لائے۔جمعہ کی نماز چھوٹی اور بڑی دونوں مسجدوں میں ادا ہوئی۔صاحبزادہ مبارک احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت آج بحمد اللہ نسبتاً بہت اچھی رہی۔مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس ایدہ اللہ بنصرہٖ حسبِ معمول بعد نماز بیٹھے رہے۔ایک شخص۲ نے جو کئی دن سے دارالامان میں آیا ہوا تھا ایک عجیب حرکت کی۔اس نے قرآن شریف کو ہاتھ میں لے کر کہا کہ یا امام پاک!یہ خدا کا کلام ہے۔میں اس کو پیش کرتا ہوں اور تین سو روپیہ آپ سے مانگتا ہوں اور قرآن شریف کو بار بار حضرت اقدس کے ہاتھ میں دیتا اور اصرار کرتا تھا کہ آپ اس کو رکھیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس زمانہ کی سب سے بڑی ضرورت ہم قرآن شریف ہی کی تعلیم دینے کو آئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف تو اس لیے بھیجا ہے کہ اس پر عمل کیا جاوے۔اس میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا کسی کو مجبور کرتا ہے۔انسان کی ہر حالت خواہ وہ آرام کی ہو یا تکلیف کی، گزر ہی جاتی ہے کیونکہ وقت تو اس کی پروا نہیں کرتا۔چنانچہ کسی نے کہا ہے شب تنور گزشت وشب سمور گزشت۔پھر انسان کیوں کر اس کام کو مقدم نہ کرے۔جو اس کا اصل فرض ہے۔ہمارے نزدیک سب سے بڑی ضرورت آج اسلام کی زندگی کی ہے۔اسلام ہر قسم کی خدمت کا محتاج ہے۔اس کی ضرورتوں پر ہم کسی ضرورت کو مقدم نہیں کر سکتے۔