ملفوظات (جلد 2) — Page 221
خدا تعالیٰ نے جو یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے۔ہم معصیت سمجھتے ہیں کہ اس کام کو چھوڑ دیں۔دو بیمار ہوتے ہیں۔ایک ان میں سے اگر مَر جاوے تو کچھ حرج نہیں ہوتا لیکن ایک ایسا ہوتا ہے اگر وہ مَر جاوے تو دنیا تاریک ہو جاتی ہے۔پس یہی حالت اسلام کی ہو رہی ہے۔آج سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اور بن پڑے اسلام کی خدمت کی جاوے۔جس قدر روپیہ ہو وہ اسلام کے احیا میں خرچ کیا جاوے۔میں اب تمہارے اس طرح پر قرآن شریف پیش کرنے کو کیا کروں۔میں تمہارا فکر کروں یا قرآن شریف کا فکر کروں۔میرے لیے تو قرآن ہی کا فکر مقدم پڑا ہوا ہے اور جو کام خدا نے میرے سپرد کیا ہے اسے میں کیوں کر چھوڑ دوں۔تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام کا کیسا حال ہو گیا ہے۔کوئی ناجائز کا م کسی تاویل اور پناہ لینے سے روا نہیں ہو جاتا۔تمہاری یہ قسم دراصل ناجائز ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص قتل کا مستوجب تھا وہ بیت الحرام میں داخل ہو گیا۔صرف اس خیال سے کہ اس کی شان میں آیا ہے وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا( اٰل عـمران :۹۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو وہیں قتل کیا جاوے۔اس طرح اگر کوئی لوگوں کو قسمیں دے کر اپنے اغراض کو پورا کرنے پر مجبور کرے تو وہ ساری دنیا کا کام آج تمام کر دیتا اور خدا کے احکام سے امان اٹھ جاتا ہے اور ایسے طریقوں اور حیلوں سے تو آج اسلام کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ہمارا یہ مذہب نہیں ہے کہ دینی حالت کا لحاظ نہ کریں اور اس کی پروا نہ ہو۔نہیں ! بلکہ ہمارے نزدیک وہ سب سے مقدم ہے۔تم نے جو طریق اختیار کیا ہوا ہے اس کو خدا تعالیٰ جائز نہیں رکھتا۔اس کے بعد ڈاکٹر رحمت علی صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ کسی نے اعتراض کیا کہ مسیح کی نسبت آیا ہے وہ بہت مال دے گا۔میں نے اس کو کہا کہ کس قدر مال اس نے دیا ہے۔کوئی لینے والا بھی ہو۔دس ہزار ایک کتاب کے ساتھ ہے پانچسو ایک کے ساتھ ہے وغیرہ حضرت اقدس نے فرمایا۔ہاں درست ہے۔مگر قرآن شریف کوخدا تعالیٰ نے خیر کہا ہے چنانچہ فرمایامَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا ( البقرۃ: ۲۷۰) پس قرآن شریف معارف اور علوم کے مال کا خزانہ ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآنی معارف اور علوم کا نام بھی مال رکھاہے۔دنیا کی برکتیں بھی اسی کے ساتھ آتی ہیں۔