ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 219

جلد بازی کی نظیریں اور نمونے نہیں ہیں۔وہ سخت نادان ہے جو اس قسم کی جلد بازی سے کام لینا چاہتا ہے۔اس شخص کو بھی اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنا چاہیے جس کو اپنے عیب، عیب کی شکل میں نظر آجاویں۔ورنہ شیطان بد کاریوں اور بد اعمالیوں کو خوش رنگ اور خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔پس تم اپنی بے صبری کو چھوڑ کر صبر اور استقلال کے ساتھ خدا تعالیٰ سے توفیق چاہو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔بغیر اس کے کچھ نہیں ہے۔جو شخص اہل اللہ کے پاس اس غرض سے آتا ہے کہ وہ پھونک مار کر اصلاح کردیں وہ خدا پر حکومت کرنی چاہتا ہے۔یہاں تو محکوم ہو کر آنا چاہیے۔ساری حکومتوں کو جب تک چھوڑتا نہیں کچھ بھی نہیں بنتا۔جب بیمار طبیب کے پاس جاتا ہے تو وہ اپنی بہت سی شکایتیں بیان کرتا ہے مگر طبیب شناخت اور تشخیص کے بعد معلوم کر لیتا ہے کہ اصل میں فلاں مرض ہے۔وہ اس کا علاج شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح سے تمہاری بیماری صرف بے صبری کی ہے۔اگر تم اس کا علاج کرو تو دوسری بیماریاں بھی خدا چاہے تو رفع ہو جائیں گی۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے کبھی مایوس نہ ہو اور اس وقت تک طلب میں لگا رہے جب تک کہ غر غرہ شروع ہو جاوے۔جب تک اپنی طلب اور صبر کو اس حد تک نہیں پہنچاتا۔انسان بامراد نہیں ہو سکتا اور یوں خدا تعالیٰ قادر ہے وہ چاہے تو ایک دم میں با مراد کر دے۔مگر عشق صادق کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ وہ راہ طلب میں پویاں رہے۔سعدی نے کہا ہے۔؎ گر نباشد بدوست رہ بُردن شرطِ عشق است در طلب مُردن مرض دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک مرض مستوی اور ایک مرض مختلف۔مرض مستوی وہ ہوتا ہے جس کا درد وغیرہ محسوس نہیں ہوتا جیسے برص، اور مرض مختلف وہ ہے جس کا درد وغیرہ محسوس ہوتا ہے۔اس کے علاج کا تو انسان فکر کرتا ہے اور مرض مستوی کی چنداں پروا نہیں کرتا۔اسی طرح سے بعض گناہ تو محسوس ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان کو محسوس بھی نہیں کرتا۔اس لئے ضرورت ہے کہ ہر وقت انسان خدا تعالیٰ سے استغفار کرتا رہے۔قبروں پر جانے سے کیا فائدہ۔خدا تعالیٰ نے تو