ملفوظات (جلد 2) — Page 218
تقویٰ کا اثر فرمایا۔تقویٰ کا اثر اسی دنیا میں متّقی پر شروع ہو جاتا ہے۔یہ صرف ادھار نہیں نقد ہے۔بلکہ جس طرح زہر کا اثر اور تریاق کااثر فوراًبدن پر ہوتا ہے اسی طرح تقویٰ کا اثر بھی ہوتا ہے۔۱ یکم اگست۱۹۰۱ء صبر واستقلال حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور جناب مولوی عبد الکریم صاحب سَلَّمَہٗ رَبُّہٗ نے ایک شخص کو پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ شخص بہت سی گدّیوں میں پھرا ہے اور بہت سے پیروں اور مشائخ کے پاس ہو آیا ہے۔حضرت اقدس نے شخص مذکور کو مخاطب کر کے فرمایا۔اچھا کہو کیا کہتے ہو۔شخص۔حضور! میں بہت سے پیروں کے پاس گیا ہوں۔مجھ میں بعض عیب ہیں۔اوّل۔میں جس بزرگ کے پاس جاتا ہوں تھوڑے دن رہ کر پھر چلا آتا ہوں اور طبیعت اس سے بد اعتقاد ہوجاتی ہے۔دوم۔مجھ میں غیبت کرنے کا عیب ہے۔سوم۔عبادت میں دل نہیں لگتا اور بھی بہت سے عیب ہیں۔حضرت اقدس۔میں نے سمجھ لیا ہے۔اصل مرض تمہار ابے صبری کا ہے۔باقی جو کچھ ہیں اس کے عوارض ہیں۔دیکھو! انسان اپنے دنیا کے معاملات میں جبکہ بے صبر نہیں ہوتا اور صبر واستقلال سے انجام کا انتظار کرتا ہے پھر خدا کے حضور بے صبری لے کر کیوں جاتا ہے۔کیا ایک زمیندار ایک ہی دن میں کھیت میں بیج ڈال کر اس کے پھل کاٹنے کی فکر میں ہو جاتا ہے یا ایک بچہ کے پیدا ہوتے ہی کہتا ہے کہ یہ اسی وقت جوان ہو کر میری مدد کرے۔خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں اس قسم کی عجلت اور