ملفوظات (جلد 2) — Page 196
جو عقل رکھتے ہیں اور تعصّب سے خالی ہیں۔ان کو یقین ہے کہ ایک دن ہم کو مَر کر خدا کے حضور جانا ہے۔ایسے لوگوںکو ان باتوں میں جو خدا تعالیٰ کے روح کے فیض کا نتیجہ ہیں ایک چمک اور روشنی مل جاتی ہے جس سے وہ تعصّب اور ضدّ کے تاریک غاروں سے بچ کر نکل آتے ہیں۔بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ یا تو ان کو تعصّب آتا ہی نہیں اور یا جیسے زرد اب پانی پر آجاتا ہے اور پھر ہٹ جاتا ہے کبھی نفسانی باتیں بھی آجاتی ہیں مگر نفسِ لوّامہ کی تحریک سے بچ جاتے ہیں۔بعض شخص میں نے دیکھے ہیں کہ ابھی ہنستے تھے اور اسی وقت روتے ہیں۔علی گڈھ میں مَیں نے ایک تحصیلدار کو دیکھا کہ پہلے وہ ہنستا تھا لیکن کچھ رقّت کی باتیں سن کر اس قدر رویا کہ آنسوؤں سے داڑھی تر ہوگئی۔یہ سچ ہے۔؎ حضرت انساں کہ حدّ فاصل است می تواند شد مسیحا می تواند شد خرے اصل بات یہی ہے کہ جب خدا کا نور چمک اٹھتا ہے تو پتہ نہیں لگتا کہ نار اور ظلمت کا مادہ کہاں گیا۔جو لوگ معصیت ، ہنسی اور ٹھٹھے کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں وہ کبھی امید نہیں رکھتے ہوں گے کہ یہ عادت ان سے دور ہوگی لیکن اگر انسان میں حیا ہو اور تقویٰ اور مآ ل بینی سے کام لے تو کچھ مشکل نہیں کہ خدا تعالیٰ اس کی دستگیری کرے۔آپ کو معلوم نہیں میرا کیا حال ہے اور میں آپ کے حالات سے واقف نہیں۔میرا یا آپ کا کوئی حق نہیں ہوسکتا کہ ایک دوسرے کی نسبت کوئی رائے قائم کریں۔خدا تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ (بنی اسـراءیل : ۳۷) ہمارا یہ مقدمہ ہی دیکھ لو ڈیڑھ برس سے چلتا ہے۔اب معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے فیصلہ کی راہ نکال دی ہے۔پھر دین کے معاملہ میں بھی جو اخفیٰ ہے آخر ایک راہ نکل آتی ہے۔غرض میں مختصر طور پر کہتا ہوں کہ میرے دعویٰ کے دلائل اور ثبوت وہی ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے لئے ہیں۔یہ سلسلہ جو خدا نے قائم کیا ہے یہ منہاج نبوۃ ہی پر واقع ہوا ہے۔لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ اس کو کسی اور معیار کے ساتھ جانچنا چاہتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اس کو اسی معیا رپر کسوجس پر انبیاء علیہم السلام کو پرکھا ہے اور میں یقین دلاتاہوں