ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 197

کہ اس معیار پر یہ پورا اترے گا۔مسیح موعود جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا وہ میں ہوں میرا دعویٰ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی جو آج سے قریباً انیس سو سال پیشتر ناصرہ کی بستی میں پیدا ہوا تھا وہ اپنی طبعی موت سے مرگیا اور مسیح موعود جس کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا وہ میں ہوں۔میرے مخالفوںکا یہ خیال ہے کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی زندہ آسمان پر چلا گیا ہے اور انسان ہو کر بھی وہ وہاں حوائج بشری سے بے نیاز ہوگیا ہے اور کسی دوسرے وقت وہی آسمان سے فرشتوں کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوگا۔خدا تعالیٰ اس کو قبول نہیںکرتا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فعل اور اپنی تائیدوں سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ دعویٰ ایک خیالی اور وہمی دعویٰ ہے۔خدا کے پاک کلام میں اس کا اظہار نہیں ہوا اور نہ اس دعویٰ کے کرنے والوں کو خدا نے میرے مقابل پر سماوی تائیدوں سے کامیاب کیا اور نہ عقل صحیح نے ان کا ساتھ دیا۔بات یہ ہے کہ یہ قصہ اسرائیلی روایتوں سے ہمارے مخالفوں نے لیا ہے ورنہ ہمارا دستور العمل تو کتاب اللہ ہے جس کو خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ وہ قولِ فیصل ہے۔وہ میزان ہے۔وہ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ہے اور ہمارا ہادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی نہیں ہے۔اب اوّل سے آخر تک جو شخص قرآن کریم کو دیکھے گا کہ اس میں متوفّی کا لفظ مُردوں ہی پر بولا گیا ہے اور یہی لفظ مسیح ابن مریم کی نسبت کہا گیا ہے۔یہ لفظ مُردہ کے معنوںمیں ایسا عام ہے کہ پٹواری تک بھی جانتے ہیں کہ اس کے معنے بجز مَرنے کے اور کچھ نہیں ہیں۔حدیث کو پڑھو تو وہاں بھی یہ لفظ موت ہی کے معنوں میں آیا ہے۔غرض قرآن شریف کو اگر غور سے پڑھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم مَر چکا ہے اور نہ صرف یہ کہ قرآن شریف کے کسی ایک مقام ہی سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے بلکہ قرآن شریف کی تیس آیتوں سے واضح طور پر مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے اور ایسا ہی احادیث مسیح کی وفات پر شہادت دیتی ہیں۔تاریخی طور پر صحابہ کا پہلا اجماع ہی مسیح کی وفات پر ہوا ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جہان سے انتقال فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر کھڑے