ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 195

اسی طرح تعجب کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے جیسے پہلے ماموروں کے دعا وی کو دیکھا گیا اور جو کچھ ان کے ساتھ مخلوق پرستوں نے سلوک کیا ضرور تھا کہ میرے ساتھ بھی کیا جاتا کیونکہ قانون الٰہی اسی طرح پر ہے۔آپ لوگ آگئے ہیں چونکہ عمر کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔کوئی احمق ہوگا جو عمر کا اعتبار کرتا ہو اور موت سے بے فکر رہے۔اس لئے مجھے تبلیغ حق کے لئے کہنا پڑتا ہے۔مجھے اس بات کی کچھ پروا نہیں کہ کوئی مانتا ہے یا نہیں۔میری غرض صرف پہنچا دینا ہے کیونکہ میں تبلیغ ہی کے لئے مامور ہوا ہوں۔یاد رکھو کہ اتمام حجت کے لئے انبیا علیہم السلام کے آدم سے لے کر اس دم تک تین طریقے ہیں۔اول نصوص کتابیہ یعنی خدا تعالیٰ کی کتاب کی کھلی کھلی شہادتیں۔دوم نصوص عقلیہ جیسا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخی کہیں گے لَوْكُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ(الملک: ۱۱ ) یعنی اگر ہم نبیوں کے کلام کو سنتے یا عقل رکھتے توہم جہنمی نہ ہوتے۔عقل ناقص جہالت سے بڑھ کر نقصان رساں ہے۔مثل مشہور ہے نیم مُلّا خطرہ ایمان۔ناقص عقل تکذیب اور توہین کی طرف جلدی کرتی ہے۔غرض، تو دوسرا نشان عقل رکھا ہے۔تیسرا نشان جو خدا نے مقرر کیا ہے وہ تائیداتِ سماویہ ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس کے ساتھ ضروری ہوتا ہے کہ تائیداتِ سماویہ بھی ہوں۔اس کے اور اس کے غیر میں ایک فرقان ہوتاہے جس سے غیر کو شناخت کر سکتے ہیں کیونکہ جو خدا کی طرف سے مامور ہوکر نہیں آتا اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ نہیں ہے اس کو وہ نور اور فرقان نہیں دیا جاتا۔اس فرقان میں ظاہر اور باطن کے برکات ہوتے ہیں اور دانش مند انسان قوتِ شامّہ سے تمیز کر لیتا ہے کہ اس کے ساتھ تائیدات سماویہ ہیں۔اب میں ہر ایک صاحب سے یہی کہتا ہوں کہ میں اپنے ساتھ یہ تینوں قسم کے ثبوت لے کر آیا ہوں اور خود سمجھنے اور سوچنے والے کے لئے کافی ہیں لیکن اگر خواہ نخواہ تکذیب ہی کرنی ہے تو یہ امر دیگر ہے۔اس کے سامنے تو جبکہ نظر صاف نہیں ہے فرشتہ بھی دیو سے بد تر ہے۔اس لئے ایسے لوگ ہمارے مخاطب نہیں ہو سکتے جو سرا سر ضدّ اور تعصّب سے بھرے ہوئے ہیں۔ہمارے کلام سے وہ لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں