ملفوظات (جلد 2) — Page 146
آتے ہیں تو معمولی انسان ہوتے ہیں۔تمام حوائج بشری اور ضروریات ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔اس لئے جو کچھ وہ فوق الفو ق باتیں بتاتے ہیں دنیا کی نظر میں وہ اچنبھا ہوتی ہیں اس لئے انکار کیا جاتا ہے۔ان کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ان سے ہنسی کی جاتی،ہر قسم کی تکالیف اور ایذا رسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے دل میں حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی ہی بڑی عزّت کیوں نہ ہو لیکن جس جگہ میں بیٹھا ہوں اگر آج اسی جگہ حضرت موسیٰ یا حضرت مسیحؑ ہوتے تو وہ بھی اسی نظر سے دیکھے جاتے جس نظر سے میں دیکھا جاتا ہوں۔یہی بھید ہے کہ ہر نبی کو دکھ دیا گیا اورضروری امر ہے کہ ہر ایک جو خدا کی طرف سے مامور اور مرسل ہو کر آوے وہ اپنی قوم میں کیسا ہی معزز اور امین اور صادق ہو لیکن اس کے دعوے کے ساتھ ہی اس کی تکذیب شروع ہو جاتی اور اس کی تذلیل اور ہلاکت کے منصوبے ہونے لگتے ہیں۔مگر ہاں جیسے یہ لازمی امر ہے کہ ان کی تکذیب کی جاتی ،ان کو دکھ دیا جاتا ہے۔یہ بھی سچی اور یقینی بات ہے کہ ایک وقت آجاتا ہے کہ ان کی جماعتیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔وہ دنیا میں صداقت کو قائم کر دیتے اور راستبازی کو پھیلا دیتے ہیں یہاںتک کہ ان کے بعد ایک زمانہ آتا ہے کہ ایک دنیا ان کی طرف ٹوٹ پڑتی اور ان تعلیمات کوقبول کر لیتی ہے جو وہ لے کر آتے ہیں۔گو اپنے زمانہ میں ان کو دکھ دینے میں کوئی کسر نہ رکھی گئی ہو اور نہیں رکھی جاتی۔ہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ جنہوںنے ردّ کر دیا وہ دانش مند تھے؟ نہیں ہرگز نہیں۔یہ صرف زمانہ کی خاصیت ہے کہ ان کو دانش مند کہا جاتا ہے۔ورنہ ان سے بڑھ کر بے وقوف اور سطحی خیال کے اور کون لوگ ہوں گے جو حق کو جھٹلا کر دانش مند بنتے ہیں۔یہ ایک فطرت کی کجی ہوتی ہے جو کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح ان کو ذلیل کیا جاوے۔اسی طرح خیالی طور پر اس قسم کے مجمع کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم جیت گئے اور خدا کے راستبازوں کے مقابلہ میں ہم کامیاب ہوگئے حالانکہ وہی ذلیل، نامراد اور مغلوب ہوتے ہیں۔آخر انجام دکھا دیتا ہے اور ایک روشن فیصلہ نمودار ہو جاتا ہے جس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے۔راستباز کی کامیابی مخالفوں کی