ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 145

اصلاح کے واسطے آتے ہیں وہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جوصاحبِ شریعت ہوتے ہیں اور ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے تھے اور مامور ہو کر آئے تھے مگر ان کو ایک شریعت دی گئی جس کو آپ لوگ تورات کہتے ہیں اور مانتے ہیں کہ شریعت موسیٰ کی معرفت دی گئی۔مگر ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے ہمکلام تو ہوتے ہیں اور ان صاحبِ شریعت نبیوں کی طرح وہ بھی اصلاح خلق کے لئے آتے ہیں اور اپنے وقت پر ضرورتِ حقہ کے ساتھ آتے ہیں مگر وہ صاحبِ شریعت نہیں ہوتے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ وہ کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے بلکہ اسی موسوسی شریعت کے پابند تھے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی لغو کام نہیں کرتا۔جب اس کا زندہ کلام موجود ہو اور ایک مستقل شریعت وقت کی ضرورت کے موافق موجود ہو تو دوسری کوئی شریعت دی نہیں جاتی لیکن ہاں اس وقت ایسا تو ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے کہ جب اہلِ دنیا کے دلوں سے خدا کی محبت سرد ہو جاوے اور اعمال صالحہ کی بجائے چند رسمیں رہ جاویں۔تقویٰ اور اخلاق فاضلہ نہ رہیں۔اس وقت خدا تعالیٰ ایک شخص کو مبعوث کرتا ہے جو اسی شریعت پر عملدرآمد کی ہدایت کرتا ہے اور اپنے عملی نمونہ سے اس شریعت حقہ کی کھوئی ہوئی عظمت اور بزرگی کو پھر لوگوں کے دلوں میں قائم کرتا ہے۔اس کے مناسب حال اس میں سب باتیں موجود ہوتی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف رکھتاہے۔کلام الٰہی کا مغز اسے عطا ہوتا ہے اور شریعت کے اسرار پر اسے اطلاع دی جاتی ہے۔وہ بہت سے خوارق اور نشان لے کر آتا ہے۔غرض ہر طرح سے معزز اور مکرم ہوتا ہے مگر دنیا اس کو نہیں پہچانتی۔جیسے جیسے کسی کو آنکھیں ملتی جاتی ہیں وہ اس کو اسی حد تک شناخت کرتا جاتا ہے۔مامورین کی مخالفت یہ امر انسانی عادت میں داخل ہے کہ جب کوئی نیا انسان اُس کے سامنے آتا ہے تو آنکھیں اس کوتاڑتی ہیں کہ یہ اس کا قد ہے، یہ رنگ ہے، آنکھیں ایسی ہیں، صورت شکل ایسی ہے۔غرض سر سے لے کر پیر تک اس کو تاڑتا ہے یہاں تک کہ نظر میں محدود ہو کر آخر کار اس کا رعب کم ہو جاتا ہے۔اسی طرح نبیوں کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ