ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 147

سفاہت اور جہالت پر مہر کر دیتی ہے کہ وہ جس قدر اعتراض کرتے تھے اپنی نادانی سے کرتے تھے۔میں یہ بار بار لکھ چکا ہوں کہ جوخدا کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں دنیا ان کو کم پہچانتی ہے۔بجز ان لوگوں کے جو دیکھنے کی آنکھیں رکھتے ہیں۔ان کو دوسرے دیکھ ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ تو ان میں ہی ایک کھاتے پیتے حوائج بشری کے رکھنے والے انسان ہوتے ہیں۔میں کوئی جدید شریعت لے کر نہیں آیا اور یہ بات کہ میرے نوشتے باقی رہیں گے۔میں پہلے کہہ چکاہوں کہ خدا کی طرف سے مامورہو کر آنے والے لوگوں کے دو طبقہ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو صاحب شریعت ہوتے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام اور ایک وہ جو احیاءِ شریعت کے لئے آتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔اسی طرح پر ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل شریعت لے کر آئے جو نبوت کے خاتم تھے۔اس لئے زمانہ کی استعدادوں اور قابلیتوں نے ختم نبوت کر دیا تھا۔پس حضور علیہ السلام کے بعد ہم کسی دوسری شریعت کے آنے کے قائل ہرگز نہیں۔ہاں جیسے ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ تھے اسی طرح آپ کے سلسلہ کا خاتم جو خاتم الخلفاء یعنی مسیح موعود ہے۔ضروری تھا کہ مسیح علیہ السلام کی طرح آتا۔پس میں وہی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود ہوں۔جیسے مسیح کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ شریعت موسوی کے احیاء کے لئے آئے تھے میں کوئی جدید شریعت لے کر نہیں آیا اور میرا دل ہرگز نہیں مان سکتا کہ قرآنِ شریف کے بعد اب کوئی اور شریعت آسکتی ہے کیونکہ وہ کامل شریعت اور خاتم الکتب ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے مجھے شریعتِ محمدی کے احیاء کے لئے اس صدی میں خاتم الخلفاء کے نام سے مبعوث فرمایا ہے۔میرے الہامات جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہوتے ہیں اور جو ہمیشہ لاکھوں انسانوں میں شائع کئے جاتے ہیں اور چھاپے جاتے ہیں اور ضائع نہیں کئے جاتے۔وہ ضائع نہ ہوں گے اوروہ قائم رہیں گے۔اشاعت مذہب کا بہترین طریق سوال۔آپ کی رائے میں مذہب کے پھیلانے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟