ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 68

یہی جواب دیا۔وہ انہیں امیر دزداں کے پاس لے گئے کہ بار بار یہی کہتا ہے۔امیر نے کہا اچھا اس کا کپڑا دیکھو تو سہی۔جب تلاشی لی تو چالیس مہریں برآمد ہوئیں۔وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے ہم نے کبھی ایسا آدمی نہیں دیکھا۔امیر نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ تو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ دے دیا؟ آپؒ نے کہا کہ میں خدا کے دین کی تلاش میں جاتا ہوں۔والدہ نے نصیحت کی تھی کہ جھوٹ نہ بولنا۔یہ پہلا امتحان تھا۔جھوٹ کیوں کر بولتا۔یہ سن کر امیر دزداں رو پڑا کہ آہ! میں نے ایک بار بھی خدا کا کہنا نہ مانا۔چوروں سے کہا کہ اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میرا تو کام تمام کر دیا۔میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا اور توبہ کرتا ہوں۔اس پر چوروں نے بھی توبہ کی۔میں ’’چوروں قطب بنایا ای‘‘ اسی واقعہ کو سمجھتا ہوں۔الغرض سید عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ پہلے بیعت کرنے والے چور ہی تھے۔اسی لئے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا (اٰل عمران:۲۰۱) صبر ایک نقطہ کی طرح پیدا ہوتا ہے اور پھر دائرہ کی شکل اختیار کر کے سب پر محیط ہو جاتا ہے۔آخر بدمعاشوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ انسان تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دے اور تقویٰ کی راہوں پر مضبوط قدم مارے کیونکہ متقی کا اثر ضرور پڑتا ہے اور اس کا رعب مخالفوں کے دل میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔تقویٰ کے اجزا تقویٰ کے بہت سے اجزا ہیں۔عُجب، خود پسندی، مال حرام سے پرہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ (المؤمنون:۹۷) اب خیال فرمائیے یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟ اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ اگر مخالف گالی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دو بلکہ صبر کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا اور یہ سزا اس سزا سے کہیں بڑھ کر ہو گی جو انتقامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشا یہ نہیں۔خوش اخلاقی ایک ایسا جوہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا