ملفوظات (جلد 1) — Page 69
ہے۔کیا اچھا کہا ہے کہ لطف کن لطف کہ بیگانہ شود حلقہ بگوش # فاسق آدمی جو انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ پر تھے۔خصوصاً وہ لوگ جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر تھے ان کا ایمان لانا معجزات پر منحصر نہ تھا اور نہ معجزات اور خوارق ان کی تسلی کا باعث تھے بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کو ہی دیکھ کر ان کی صداقت کے قائل ہو گئے۔اخلاقی معجزات وہ کام کر سکتے ہیں جو اقتداری معجزات نہیں کر سکتے اَلْاِسْتِقَامَۃُ فَوْقَ الْکَرَامَۃِ کا یہی مفہوم ہے اور تجربہ کرلو اور خود دیکھ لو کہ استقامت کیا کرشمہ دکھاتی ہے بلکہ کرامت کی طرف تو چنداں التفات ہی نہیں ہوتا خصوصاً آج کل کے زمانہ میں لیکن اگر پتہ لگ جاوے کہ کوئی بااخلاق آدمی ہے تو اس کی طرف جس قدر رجوع ہوتا ہے وہ کوئی مخفی امر نہیں۔اخلاق حمیدہ کی زد اُن لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو کسی قسم کے نشان کو دیکھ کر بھی اطمینان اور تسلی نہیں پا سکتے۔یہ بات بھی ہے کہ بعض لوگ ظاہری معجزات اور خوارق کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں اور بعض حقائق اور معارف کو دیکھ کر اور اکثر وہ ہیں جن کی ہدایت اور تسلی کا موجب وہی اخلاق فاضلہ اور التفات ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے معجزات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے ہر ایک قسم کے خوارق اور معجزات حاصل تھے۔ہم ان کی شان کیا بیان کریں جس طرف دیکھو بے شمار معجزات ملیں گے۔ہرسہ اقسام کے معجزات مجموعی طور پر آپ ہی کا حصہ تھے۔ظاہری خوارق مثل شق القمر اور دیگر معجزات کے جن کی تعداد تین ہزار سے بھی زیادہ ہے۔اور معارف اور حقائق کے معجزات سے تو قرآن کریم لبریز ہے اور وہ ہر وقت تازہ اور نئے ہیں۔بلحاظ اخلاقی معجزات کے خوداس مقدس نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ (القلم:۵) کا مصداق ہے۔قرآن کریم اپنے اعجاز کے ثبوت میں اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ (البقرۃ:۲۴) کہتا ہے۔یہ معجزات روحانی ہیں۔جس طرح وحدانیت کے دلائل دئیے ہیں اسی طرح پرحکمت، فصاحت ، بلاغت بھی