ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 67

اور اپنے اس ارادہ میں کامیاب ہونے کے لئے بہت سی نکتہ چینیاں بھی جمع کرلی تھیں اور میں وقتاً فوقتاً ان نکتہ چینیوں کو صاحب بہادر کے ہاں پیش کر دیا کرتا تھا۔صاحب اگر بہت ہی غصہ ہو کر اس کو بلا بھی لیتا تھا تو جب وہ سامنے آجاتا گویا آگ پر پانی پڑ جاتا۔معمولی طور پر نہایت نرمی سے فہمائش کر دیتا گویا اس سے کوئی قصور سرزد ہی نہیں ہوا۔تقویٰ کا رعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے اصل بات یہ ہے کہ تقویٰ کا رعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے اور خدائے تعالیٰ متقیوں کو ضائع نہیں کرتا۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بڑے اکابر میں سے ہوئے ہیں۔ان کا نفس بڑا مطہر تھا۔ایک بار انہوں نے والدہ سے کہا کہ میرا دل دنیا سے بہت برداشتہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشوا تلاش کروں جو مجھے سکینت اور اطمینان کی راہیں دکھلائے۔والدہ نے جب دیکھا کہ یہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا۔اس کی بات کو مان لیا اور کہا اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں یہ کہہ کر اندر گئی اور اسی (۸۰) مہریں جو اس نے جمع کی ہوئی تھیں اٹھا لائی اور کہا کہ ان مہروں میں سے حصہ شرعی کے موافق چالیس مہریں تیری ہیں اور چالیس تیرے بڑے بھائی کی۔اس لئے چالیس مہریں تجھے بحصہ رسدی دیتی ہوں۔یہ کہہ کر چالیس مہریں لے کر اس کی بغل کے نیچے پیرہن میں سی دیں اور کہا کہ امن کی جگہ پہنچ کر نکال لینا اور عندالضرورت اپنے صرف میں لانا۔سیدعبدالقادر ؒ نے ماں سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کرو۔اس نے کہا بیٹا جھوٹ نہ بولنا اس سے بڑی برکت ہوگی۔اتنا سن کر آپ ؒ رخصت ہوئے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل میں سے ہو کر آپؒ چلے اس میں چند قزاق راہزن رہتے تھے جو مسافروں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔اب دور سے ان پر بھی ان کی نظر پڑی۔قریب آئے تو انہوں نے ایک کمبل پوش فقیر سا دیکھا۔ایک نے ہنسی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ یہ ابھی تازہ نصیحت سن کر آئے تھے کہ جھوٹ نہ بولنا۔فی الفور بولے کہ ہاں۔چالیس مہریں میری بغل کے نیچے ہیں جو میری ماں نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں۔اس نے سمجھا ٹھٹھا کرتا ہے۔دوسرے نے جب پوچھا اس کو بھی یہی جواب دیا۔الغرض ہر ایک چور کو