ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 511 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 511

ایسے وقت میں کہ ابھی مقدمہ کا نام و نشان بھی نہیں۔اس کا سارا نقشہ کھینچ کر دکھلایا جاوے۔لیکھرام کا نشان پھر لیکھرام کا نشان ایک شمشیر برہنہ کی طرح تھا۔پانچ سال پیشتر بذریعہ اشتہارات فریقین کی طرف سے یہ پیش گوئی شائع کی گئی اور خود لیکھرام جہاں جاتا اس پیش گوئی کو سناتا۔اس میں کوئی شرط نہ تھی اور وہ صاف تھی۔اگر وہ زندہ رہتا تو بے شک قیامت برپا ہو جاتی۔لیکن یہ تب ہوتا اگر خدا تعالیٰ کی باتیں نہ ہوتیں۔بے شک پھر انجام رسوائی کے ساتھ ہوتا۔کیا محمد حسین چپ رہتا؟ اب بھی جب کہ یہ نشان پورا ہوگیا اور لاکھوں انسانوں نے اس پیش گوئی کی صداقت کو تسلیم کرلیا۔وہ کہتا ہے کہ جماعت کے کسی آدمی نے قتل کر دیا ہوگا۔افسوس یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ وہ مرید کیسا خوش اعتقاد ہوگا جو ایسے پیر پر بھی اعتقاد رکھ سکتا ہے جو اسے قتل کی ترغیب دے اور اپنی پیش گوئیوں کو اپنی صداقت کا معیار قائم کرے۔اور پھر ان کے پورا کرنے کے لئے مریدوں کو ناجائز وسائل اختیار کرنے کی تعلیم دے؟ شرم ہے ایسے خیالات پر۔جو لوگ اس قسم کا خیال رکھتے ہیں وہ گویا ہماری نیک نہاد، انصاف پرور اور ہوشیار گورنمنٹ کو بھی بدنام کرنا چاہتے ہیں۔گورنمنٹ نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا، لیکھرام کے قتل کے متعلق اس نے پوری سرگرمی سے تحقیقات کی لیکن ہمارا اور ہماری جماعت کا دامن اس خون سے بالکل پاک صاف ثابت ہوا۔افسوس یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ کیا لیکھرام نے میرے کسی باپ اور دادا کو قتل کر دیا تھا؟ اس نے میری ذات کو کسی قسم کی کوئی تکلیف اور ایذا نہیں دی۔ہاں اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر وہ گستاخانہ حملے کیے اور وہ بے ادبیاں کیں کہ میرا دل کانپ اٹھا اور میرا جگر پارا پارا ہوگیا۔میں نے اس کی بے ادبیوں اور شوخیوں کو ٹکڑے ہوئے ہوئے دل کے ساتھ خدا کے حضور پیش کیا۔اس نے ان شوخیوں اور گستاخیوں کے عوض میں اس کی نسبت مجھے یہ پیش گوئی عطا فرمائی۔پھر اسی پیش گوئی میں اس کی موت، وقت موت، صورت موت وغیرہ امور کو بخوبی بتلایا گیا تھا۔ہاتھ کا نشان بنایا جانا اور ’’بترس از تیغِ بُرّانِ محمدؐ‘‘ # کہنا یہ سب امور واضح طور پر درج ہیں۔اب کوئی بتلاوے کہ کیا اس وقت جب کہ وہ ابھی چوبیس (۲۴) پچیس برس کا نوجوان تھا۔پانچ سال پیشتر اس قسم کی