ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 510 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 510

یا نہیں۔علاوہ ازیں ہم نے تو ثابت کرکے دکھا دیا تھا کہ فیصلہ صحیحہ کے لئے قسم کھانا عیسائی پر واجب ہے۔غرض یہ پیش گوئی مشروط تھی۔وہ سراسیمہ رہا۔شہر بہ شہر پھرتا رہا۔اگر اس کو اپنے خداوند مسیح پر پورا یقین اور بھروسہ ہوتا پھر اس قدر گھبراہٹ کے کیا معنی؟ لیکن ساتھ ہی جب اس نے اخفائے حق کیا اور ایک دنیا کو گمراہ کرنا چاہا، کیونکہ اخفائے حق بعض ناواقفوں کی راہ میں ٹھوکر کا پتھر ہو سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے صادق وعدہ کے موافق ہمارے آخری اشتہار سے سات مہینے کے اندر اس کو دنیا سے اٹھا لیا اور جس موت سے وہ ڈرتا اور بھاگتا پھرتا تھا اس نے اس کو آلیا۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آتھم کے معاملہ میں لوگوں کو کیا مشکل پیش آسکتی ہے۔اس قدر قوی قرائن موجود ہیں۔اور پھر انکار!!! قرائن قویہ سے تو عدالتیں مجرموں کو پھانسی دے دیتی ہیں۔غرض یہ آتھم کا ایک بڑا نشان تھا اور براہین احمدیہ میں اس فتنہ کی طرف صاف اور واضح لفظوں میں الہام درج ہو چکا ہے۔نشان مہو تسو پھر جلسہ مذاہب کا نشان ایک بڑا نشان ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور بہت سے دوست اس بات کے گواہ ہیں اور وہ قسم کھا کر بتلا سکتے ہیں کہ قبل از وقت ان کو بتلا دیا گیا تھا اور اشتہار چھاپ کر شائع کر دیا گیا تھا کہ ہمارا مضمون بالا رہا اور ٹھیک اسی الہام کے موافق یہ نشان ہزار ہا انسانوں کے رو برو پورا ہوا اور اردو انگریزی اخبارات نے متفق اللفظ ہوکر اقرار کیا کہ ہمارا مضمون سب سے بڑھ کر رہا۔بریت کا نشان پھر جو مقدمہ ہم پر اقدام قتل عمد کا قائم ہوا جس میں ڈاکٹر کلارک جیسے لوگ شامل تھے اور مولوی محمد حسین نے بھی جاکر گواہی دی اور رام بھجدت وکیل مشہور آریہ بھی پیروی مقدمہ کے لئے آیا۔کئی سو آدمی اس اَمر کے گواہ موجود ہیں کہ کس طرح پر قبل از وقت اس مقدمہ کی ساری کیفیت اور صورت سے اطلاع دی گئی اور آخر بریت کی بھی اطلاع دے دی جو اللہ تعالیٰ نے ابراء (بے قصور ٹھہرانا) کے الہام سے خبر دی تھی۔یہ خدا کے غیب کی باتیں ہیں۔کیا انسانی طاقت میں ہے کہ اس طرح پر پیش گوئی کر سکے اور