ملفوظات (جلد 1) — Page 512
اطلاع دینا انسانی منصوبہ اور دخل ہو سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔انسانی طاقت، انسانی فہم و فراست سے بالاتر اور بالاتر ہے۔۱۱۹؎ نشانات کی ضرورت اب بتلاؤ کہ کیا یہ نشانات اپنی صداقت اور ثبوت میں کسی اور خارجی دلیل کے محتاج ہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ معجزات میں سے ایک ہی کافی ہے چنانچہ جب ان سے معجزہ مانگا گیا تو یہی کہتے رہے کہ یونس ؑ نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہ دیا جاوے گا۔میں نے پہلے بتلا دیا ہے کہ جو لوگ اندرونی حالات سے واقف ہوتے ہیں ان کے لئے نشانات کی بڑی ضرورت نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ صرف رحم کرکے ان کے مزید اطمینان اور اپنی ہستی منوانے کے لئے نشانات ظاہر فرماتا ہے۔مجھ کو تعجب پر تعجب اور حیرت پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اولیاء اللہ کے معجزات کے قائل ہیں اور ایسے ایسے خوارق ان کے بیان کرتے ہیں جن کے لئے نہ کوئی دلیل ہے نہ عقلی یا نقلی ثبوت ہے اور وہ بطور کتھا اور کہانی کے ان کے زمانہ کے بہت عرصہ بعد لوگوں میں مشہور ہوئے ہیں۔مثلاً شیعہ ہی سے اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے معجزات مانگو تو وہ اس قدر بیان کریں گے کہ گنتے گنتے تھک جائیں مگر جب ثبوت مانگیں تو کچھ بھی نہیں۔سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے خوارق بکثرت بیان کیے جاتے ہیں مگر ان کی کسی کتاب میں منقول نہیں ہیں۔اب لوگ خدا سے ڈریں اور سوچ کر جواب دیں کہ جو باتیں صدہا سال بعد لکھی گئی ہیں ان کی تو تصدیق کی جاتی ہے لیکن جو آنکھوں سے دیکھے گئے ہیں ان کی تکذیب کی جاتی ہے۔افسوس یہ لوگ اتنا بھی تو نہیں سوچتے کہ خبر معائنہ کے برابر نہیں ہوتی۔سنی ہوئی بات کسی واقعہ صحیحہ کی برابری نہیں کر سکتی۔اب میرے نشانات دیکھ کر جو ان نشانوں کی تکذیب کی جاتی ہے یہ میری تکذیب نہیں یہ واقعات صحیحہ کی تکذیب ہے۔نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے۔یہ یاد رکھو کہ یہ مصیبت اس لئے آئی ہے کہ تقویٰ اور طہارت اٹھ گیا اور قانون الٰہی یہی ہے کہ