ملفوظات (جلد 1) — Page 476
کو مناسب ہے کہ قانون قدرت کو ہاتھ میں لے کر کام کرے۔مُردہ سے مدد مانگنا جائز نہیں اب ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ مُردوں سے مدد مانگنے کا خدا نے کہیں ذکر نہیں کیا بلکہ زندوں ہی کا ذکر فرمایا۔خدا تعالیٰ نے بڑا فضل کیا جو اسلام کو زندوں کے سپرد کیا۔اگر اسلام کو مُردوں پر ڈالتا تو نہیں معلوم کیا آفت آتی۔مُردوں کی قبریں کہاں کم ہیں۔کیا ملتان میں تھوڑی قبریں ہیں۔’’گردو گرما گداو گو رستان‘‘ # اس کی نسبت مشہور ہے۔میں بھی ایک بار ملتان گیا۔جہاں کسی قبر پر جاؤ مجاور کپڑے اتارنے کو گرد ہوجاتے ہیں۔پاک پٹن میں مُردوں کے فیضان سے دیکھ لو کیا ہو رہا ہے؟اجمیر میں جا کر دیکھو۔بدعات اور محدثات کا بازار کیا گرم ہے۔غرض مُردوں کو دیکھو گے تو اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ ان کے مشاہد میں سوا بدعات اور ارتکاب مناہی کے کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ نے جو صراط المستقیم مقرر فرمایا ہے وہ زندوں کی راہ ہے، مُردوں کی راہ نہیں۔پس جو چاہتا ہے کہ خدا کو پائے اور حیّ و قیوم خدا کو ملے تو وہ زندوں کو تلاش کرے کیونکہ ہمارا خدا زندہ خدا ہے نہ مُردہ جن کا خدا مُردہ ہے جن کی کتاب مُردہ وہ مُردوں سے برکت چاہیں تو کیا تعجب ہے۔لیکن اگر سچا مسلمان جس کا خدا زندہ خدا، جس کا نبی زندہ نبی، جس کی کتاب زندہ کتاب ہے اور جس دین میں ہمیشہ زندوں کا سلسلہ جاری ہو اور ہر زمانہ میں ایک زندہ انسان خدا تعالیٰ کی ہستی پر زندہ ایمان پیدا کرنے والا آتا ہو وہ اگر اس زندہ کو چھوڑ کر بوسیدہ ہڈیوں اور قبروں کی تلاش میں سر گرداں ہو تو البتہ تعجب اور حیرت کی بات ہے!!! زندوں کی صحبت تلاش کرو پس تم کو چاہیے کہ تم زندوں کی صحبت تلاش کرو اور باربار اُس کے پاس آکر بیٹھو۔ہاں ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دو مرتبہ میں تاثیر نہیں ہوتی۔سنّت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ترقی تدریجاً ہوتی ہے۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں تدریجی ترقی ہوئی۔جو سلسلہ منہاج نبوۃ پر قائم ہوگا اس میں بھی تدریجی ترقی کا قانون کام کرتا ہوگا۔پس چاہیے کہ صحابہؓ کی طرح اپنے کاروبار چھوڑ کر یہاں آکر بار بار اور عرصہ تک صُحبت میں رہو تاکہ تم دیکھو جو صحابہ ؓ نے دیکھا اور وہ پاؤ جو ابوبکر ؓ اور عمرؓ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم نے