ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 477 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 477

پایا۔کسی نے کیا سچ کہا ہے۔یا تُوں لوڑ مقدمے یا توُں اللہ نُوں لوڑ تم دیکھتے ہو کہ میں بیعت میں یہ اقرار لیتا ہوں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔یہ اس لیے تاکہ مَیں دیکھوں کہ بیعت کنندہ اس پر کیا عمل کرتا ہے؟ ذرہ سی نئی زمین کسی کو مل جاوے تو وہ گھربار چھوڑ کر وہاں جابیٹھتا ہے اور ضروری ہوتا ہے کہ وہ وہاں رہے تا وہ زمین آباد ہو۔محمد حسین جیسے کو بھی بار میں جاکر ٹھہرنے کی ضرورت آپڑی۔پھر ہم جو ایک نئی زمین اور ایسی زمین دیتے ہیں جس میں اگر صفائی اور محنت سے کاشت کی جاوے تو ابدی پھل لگ سکتے ہیں۔کیوں یہاں آکر لوگ گھر نہیں بناتے اور اگر اس بے احتیاطی کے ساتھ اس زمین کو کوئی لیتا ہے کہ بیعت کے بعد یہاں آنا اور چند روز ٹھہرنا بھی دوبھر اور مشکل معلوم دیتا ہے تو پھر اس کی فصل کے پکنے اور بارآور ہونے کی کیا اُمید ہوسکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قلب کا نام بھی زمین رکھا ہے اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الـحدید:۱۸) زمیندار کو کس قدر تردّد کرنا پڑتا ہے۔بیل خریدتا ہے۔ہل چلاتا ہے۔تخم ریزی کرتا ہے۔آبپاشی کرتا ہے۔غرضیکہ بہت بڑی محنت کرتا ہے اور جب تک خود دخل نہ دے کچھ بھی نہیں بنتا۔لکھا ہے کہ ایک شخص نے پتھر پر لکھا دیکھا کہ ’’زرع زر ہی زر ہے۔‘‘ کھیتی تو کرنے لگا مگر نوکروں کے سُپرد کردی لیکن جب حساب لیا کچھ وصول ہونا تو درکنار کچھ واجب الادا ہی نکلا۔پھر اُس کو اس موقع پر شک پیدا ہوا تو کسی دانش مند نے سمجھایا کہ نصیحت تو سچی ہے لیکن تمہاری بے وقوفی ہے۔خود مہتمم بنو تب فائدہ ہوگا۔ٹھیک اسی طرح پر ارضِ دل کی خاصیت ہے جو اُس کو بے عزتی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کا فضل اور برکت نہیں ملتی۔یاد رکھو مَیں جو اصلاحِ خلق کے لئے آیا ہوں جو میرے پاس آتا ہے وہ اپنی استعداد کے موافق ایک فضل کا وارث بنتا ہے لیکن مَیں صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ جو سرسری طور پر بیعت کرکے چلا جاتا ہے اور پھر اُس کا پتا بھی نہیں ملتا کہ کہاں ہے اور کیا کرتا ہے اُس کے لئے کچھ نہیں ہے وہ جیسا تہی دست آیا تھا، تہی دست جاتا ہے۔یہ فضل اور برکت صحبت میں رہنے سے ملتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہؓ