ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 475

یعنی یہ کہ اس قوت کو پا کر زہریلے مواد پر غالب آجاوے۔غرض اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت پر یوں قائم رہو۔اوّل۔رسول کی اطاعت کرو۔دوسرے ہر وقت خدا سے مدد چاہو۔ہاں پہلے اپنے رب سے مدد چاہو۔جب قوت مل گئی تو تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ یعنی خدا کی طرف رجوع کرو۔استغفار کو توبہ پر تقدم حاصل ہے استغفار اور توبہ دو چیزیں ہیں۔ایک وجہ سے استغفار کو توبہ پر تقدم ہے۔کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور توبہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس قوت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ ہے اس لئے طبعی طور پر بھی یہی ترتیب ہے۔غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا؟ توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔اگر استغفار نہ ہو تو یقیناً یاد رکھو کہ توبہ کی قوت مَر جاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر توبہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہو گا يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى (ھود:۴) سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ہر ایک آدمی نبی، رسول، صدیق، شہید نہیں ہو سکتا۔غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات اَمر حق ہے۔اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواظبت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پالے گا۔یہی مطلب ہے اس آیت کا وَ يُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ (ھود:۴) لیکن اگر زیادت لے کر آیا ہے تو خدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دے گا اور اپنے فضل کو پالے گا جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا محروم نہ رکھے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ میاں ہم نے ولی بننا ہے؟ جو ایسا کہتے ہیں وہ دنیُّ الطبع کافر ہیں۔انسان