ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 474

انسان کے ماتحت نہ ہو۔جو تخم ریزی، آبپاشی، نلائی کے تمام مَرحلے طے کرچکا ہو۔اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ مُرشد کامل کی ضرورت انسان کو ہے۔مُرشد کامل کے بغیر انسان کا عبادت کرنا اسی رنگ کا ہے جیسے ایک نادان و ناواقف بچہ ایک کھیت میں بیٹھا ہوا اصل پودوں کو کاٹ رہا ہے اور اپنے خیال وہ سمجھتا ہے کہ وہ گوڈی کررہا ہے۔یہ گمان ہر گز نہ کرو کہ عبادت خود ہی آجاوے گی۔نہیں جب تک رسول نہ سکھلائے انقطاع الی اللہ اور تبتلِ تام کی راہیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔اِستغفار اور توبہ پھر طبعاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مشکل کام کیونکر حل ہو؟ اس کا علاج خود ہی بتلایا اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ (ھود:۴) یاد رکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے، دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیرنے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے اسی طرح پر رُوحانی مگدر استغفار ہے اس کے ساتھ رُوح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔غفر ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔استغفار سے انسان اُن جذبات اور خیالات کو ڈھانپنے اور دبانے کی کوشش کرتا ہے جو خدا تعالیٰ سے روکتے ہیں۔پس استغفار کے یہی معنے ہیں کہ زہریلے مواد جو حملہ کرکے انسان کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اُن پر غالب آوے اور خدا تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری کی راہ کی روکوں سے بچ کر انہیں عملی رنگ میں دکھائے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں دو قسم کے مادے رکھے ہیں۔ایک سمی مادہ ہے جس کا موکل شیطان ہے اور دوسرا تریاقی مادہ ہے۔جب انسان تکبر کرتا ہے اور اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے اور تریاقی چشمہ سے مدد نہیں لیتا تو سمّی قوت غالب آجاتی ہے لیکن جب اپنے تئیں ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اور اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت محسوس کرتا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چشمہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اس کی روح گداز ہو کر بہہ نکلتی ہے۔اور یہی استغفار کے معنی ہیں۔