ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 469 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 469

کہ اگر مامور تھے تو وہ وعدے زندگی میں کیوں پورے نہ ہوئے۔سچی بات یہی ہے کہ سب نبیوں کی نبوت کی پردہ پوشی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہوئی۔تصویر یُسوع ایسا ہی مسیح علیہ السلام کی زندگی پر نظر کرو۔ساری رات خود دعا کرتے رہے۔دوستوں سے کراتے رہے۔آخر شکوہ پر اُتر آئے اور ایلی ایلی لما سبقتنی بھی کہہ دیا یعنی اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ اب ایسی حسرت بھری حالت کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مامُور من اللہ ہے۔جو نقشہ پادریوں نے مسیح کی آخری حالت کا جما کر دکھایا ہے وہ تو بالکل مایُوسی بخشتا ہے۔لافیں تو اتنی تھیں کہ خدا کی پناہ اور کام کچھ بھی نہ کیا۔ساری عمر میں کل ایک سو بیس آدمی طیار کیے اور وہ بھی ایسے پست خیال اور کم فہم جو خدا کی بادشاہت کی باتوں کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے اور سب سے بڑا مصاحب جس کی بابت یہ فتویٰ تھا کہ جو زمین پر کرے آسمان پر ہوتا ہے اور بہشت کی کنجیاں جس کے ہاتھ میں تھیں اُسی نے سب سے پہلے لعنت کی۔اور وہ جو امین اور خزانچی بنایا ہوا تھا جس کو چھاتی پر لٹاتے تھے اُسی نے تیس درم لے کر پکڑوا دیا۔اب ایسی حالت میں کب کوئی کہہ سکتا ہے کہ مسیحؑ نے واقعی ماموریت کا حق ادا کیا۔اور اس کے مقابل ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیسا پکّا کام ہے اس وقت سے جب سے کہا کہ مَیں ایک کام کرنے کے لئے آیا ہوں۔جب تک یہ نہ سُن لیا کہ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ:۴) آپؐ دنیا سے نہ اُٹھے۔جیسے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا (الاعراف: ۱۵۹) اس دعویٰ کے مناسب حال یہ ضروری تھا کہ کل دنیا کے مکر و مکاید متفق طور پر آپؐ کی مخالفت میں کیے جاتے۔آپؐ نے کس حوصلے اور دلیری کے ساتھ مخالفوں کو مخاطب کرکے کہا کہ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا (ہود:۵۶) یعنی کوئی دقیقہ مکر کا باقی نہ رکھو۔سارے فریب مکر استعمال کرو۔قتل کے منصوبے کرو۔اخراج اور قید کی تدبیریں کرو مگر یاد رکھو سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ (القمر:۴۶) آخر فتح میری ہے۔تمہارے سارے منصوبے خاک میں مل جاویں گے۔تمہاری ساری جماعتیں منتشر اور پراگندہ ہوجاویں گی اور