ملفوظات (جلد 1) — Page 468
چوتھا احکام جوایک زبردست وجہ استواری اور استحکام کی ہے نبی کی قوت قدسیہ ہے جس سے فائدہ پہنچتا ہے۔جیسے طبیب خواہ کتنا ہی دعویٰ کرے کہ مَیں ایسا ہوں اور ویسا ہوں اور اس کو سدیدی خواہ نوکِ زبان ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر لوگوں کو اُس سے فائدہ نہ پہنچے تو یہی کہیں گے کہ اُس کے ہاتھ میں شِفا نہیں ہے۔اسی طرح پر نبی کی قوتِ قدسی جس قدر زبردست ہو اُسی قدر اُس کی شان اعلیٰ اور بلند ہوتی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کے استحکام کے لئے یہ پشتیبان بھی سب سے بڑا پشتیبان ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی ہمارے پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی اس درجہ پر پہنچی ہے کہ اگر تمام انبیاء علیہم السلام کے مقابلہ میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کسی نے آپؐ کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا۔یہودی دنیا کے کتّے ہیں۔عیسائیوں کو دیکھو تو وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے چشمے سے دُور جا پڑے۔کوئی حضرت مریمؑ کی پرستش کرتا ہے۔کوئی مسیحؑ کو خدا جانتا ہے اور دنیا پرستی ہی شب و روز کا شغل اور کام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طیار کردہ جماعت کو اگر دیکھا جاوے تو وہ ہمہ تن خدا ہی کے لئے نظر آتے ہیں اور اپنی عملی زندگی میں کوئی نظیر نہیں رکھتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مُبارک اور کامیاب زندگی کی تصویر یہ ہے کہ آپؐ ایک کام کے لئے آئے اور اُسے پورا کرکے اس وقت دنیا سے رُخصت ہوئے جس طرح بندوبست والے پورے کاغذات پانچ برس میں مرتب کرکے آخری رپورٹ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے۔اُس دن سے لے کر جب قُمْ فَاَنْذِرْ (المدثر:۳) کی آواز آئی پھر اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ (النصـر:۲) اور اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ:۴) کے دن تک نظر کریں تو آپؐ کی لانظیر کامیابی کا پتا ملتا ہے۔ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ خاص طور پر مامور تھے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آپ کی زندگی میں وہ کامیابی نصیب نہ ہوئی جو اُن کی رسالت کا منتہا تھی۔وہ ارضِ مقدس اور موعود سرزمین کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ سکے بلکہ راہ ہی میں فوت ہوگئے۔کافر کب مان سکتا ہے اور ایک بے ایمان آدمی راہ میں فوت ہوجانے اور وعدہ کی زمین میں نہ پہنچ سکنے کے وُجوہات کب سننے لگا۔وہ تو یہی کہے گا