ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 470

پیٹھ دے نکلیں گی۔جیسے وہ عظیم الشان دعویٰ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا کسی نے نہیں کیا اور جیسے فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا کہنے کو کسی کی ہمت نہ ہوئی۔یہ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ یہ الفاظ اسی منہ سے نکلے جو خدا تعالیٰ کے سائے کے نیچے الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔غرض ان وجوہات پر ایک اجنبی آدمی بھی نظر ڈالے تو اُس کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے صاف اور واضح طور پر کتاب اللہ کو مضبوط و مستحکم فرمایا ہے۔اگر کوئی قانونِ قدرت پر نظر کرتا ہے تو قول اور فعلِ الٰہی کو باہم مطابق پاتا ہے۔پھر اگر خوارق پر نظر کرتا ہے تو اِس قدر کثرت سے ہیں کہ حدِ شمار سے باہر ہیں۔یہاں تک کہ آپؐ کا قول، فعل و حرکات و سکنات سب خوارق ہیں۔قوتِ قُدسیہ کو دیکھتا ہے تو صحابہ کرامؓ کی پاک تبدیلی حیرت میں ڈالتی ہے۔پھر کامیابی کو دیکھتا ہے تو دنیا بھر کے ماموروں اور مُرسلوں سے بڑھ کر تھے۔اِن وجوہات احکام آیات کے علاوہ میرے نزدیک اور بھی بہت سے وجوہات ہیں۔منجملہ ان کے ایک الٓرٰ کے لفظ رٰ سے پتا لگتا ہے کہ یہ لفظ مجدّدوں اور مُرسلوں کے سلسلۂ جاریہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو قیامت تک جاری ہے۔اب اس سلسلہ میں آنے والے مجدّدوں کے خوارق ان کی کامیابیوں، ان کی پاک تاثیروں وغیرہ وجوہات، احکام، آیات کو گن بھی نہیں سکتے۔متبعین کی کامیابیاں متبوع کی ہی کامیابیاں ہوتی ہیں اور یہ سب خوارق اور کامیابیاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپؐ کے متبعین مجدّدوں کے ذریعہ سے ہوئیں اور قیامت تک ہوں گی درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی کامیابیاں ہیں۔غرض ہر صدی کے سر پر مجدّد کا آنا صاف طور پر بتلارہا ہے کہ مُردوں سے استمداد خدا تعالیٰ کی منشا کے موافق نہیں۔اگر مُردوں سے مدد کی ضرورت ہوتی تو پھر زندوں کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہزاروں ہزار جو اولیاء اللہ پیدا ہوئے ہیں اس کا کیا مطلب تھا؟ مجدّدین کا سلسلہ کیوں جاری کیا جاتا؟ اگر اسلام مُردوں کے حوالے کیا جاتا تو یقیناً سمجھو کہ اس کا نام و نشان مِٹ گیا ہوتا۔یہودیوں کا مذہب مُردوں کے حوالے کیا گیا۔نتیجہ کیا ہوا؟ عیسائیوں نے مُردہ پرستی سے