ملفوظات (جلد 1) — Page 420
اختیار کرو۔خدمتِ خلق دہقانی عورتیں ایک دن بچوں کی دوائی وغیرہ لینے کے لئے آئیں۔حضور ان کو دیکھنے اور دوائی دینے میں مصروف رہے۔اس پر مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اس طرح حضور کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا۔یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے۔یہ مسکین لوگ ہیں۔یہاں کوئی ہسپتال نہیں۔میں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا رکھا کرتا ہوں جو وقت پر کام آجاتی ہیں۔یہ بڑا ثواب کا کام ہے۔مومن کو ان کاموں میں سست اور بے پروا نہ ہونا چاہیے۔بچوں کو مارنا شرک میں داخل ہے ایک مرتبہ ایک دوست نے اپنے بچے کو مارا۔آپ اس سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں بلا کر بڑی درد انگیز تقریر فرمائی اور فرمایا۔میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بدمزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے اشتعال میں بڑھتے بڑھتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوں تجاوز کرجاتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بُردبار اور باسکون اور باوقار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقتِ مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزا دے یا چشم نمائی کرے مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اور طائش العقل ہر گز سزا وار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفّل ہو۔جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب مقرر ٹھیرا لیں۔اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔حضور کی چند دعائیں فرمایا۔میں التزاماً چند دعائیں ہر روز مانگا کرتا ہوں۔اوّل اپنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خداوند کریم مجھ سے وہ کام لے جس سے