ملفوظات (جلد 1) — Page 421
اس کی عزت و جلال ظاہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔دوم۔پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ ان سے قرۃ عین عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیات کی راہ پر چلیں۔سوم۔پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدام بنیں۔چہارم۔پھر اپنے مخلص دوستوں کے لئے نام بنام۔پنجم۔اور پھر ان سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں جانتے۔تربیتِ اولاد فرمایا۔حرام ہے مشیخی کی گدی پر بیٹھنا اور پیر بننا اس شخص کو ۹۹؎ جو ایک منٹ بھی اپنے متوسلین سے غافل رہے۔فرمایا۔ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک اَمر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرنا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہیے۔آپ نے قطعی طور پر فرمایا اور لکھ کر بھی ارشاد کیا کہ ہمارے مدرسہ میں جو استاد مارنے کی عادت رکھتا اور اپنے اس ناسزا فعل سے باز نہ آتا ہو اسے یکلخت موقوف کر دو۔فرمایا۔ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔بس اس سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔جیسا کسی میں سعادت کا تخم ہوگا وقت پر سرسبز ہو جائے گا۔تکلّفات سے پرہیز جب مہمانوں کی ضرورت کے لئے مکان بنوانے کی ضرورت پیش آئی تو بار بار یہی تاکید فرمائی کہ اینٹوں اور پتھروں پر پیسہ خرچ کرنا عبث ہے۔اتنا ہی کام کرو جو چند دن بسر کرنے کی گنجائش ہو جائے۔نجار تیر بندیاں اور تختے رندے سے صاف کر رہا تھا۔حضور نے اسے روک دیا اور فرمایا۔یہ محض تکلّف ہے اور ناحق کی دیر لگانا ہے۔مختصر کام کرو۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہمیں کسی مکان سے کوئی اُنس نہیں۔ہم اپنے مکانوں کو اپنے