ملفوظات (جلد 1) — Page 419
مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو کسی عبارت کا سیاق ملانے کے لئے کسی گزشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت ہوئی۔اِس سے پوچھتے ہیں۔خاموش۔اُس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتا ہے۔آخر ایک بچہ بول اُٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیئے۔عورتیں بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور انگشت بد نداں کہ اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں۔خوب ہوا۔اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہوگی اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے ایک مضمون حضرت مسیح موعودؑ کا گم ہو گیا۔جس کی تلاش میں انہیں بڑی تشویش ہوئی۔جب حضرتؑ کو خبر ملی تو حضورؑ نے آکر مولوی صاحب سے بڑا عذر کیا کہ کاغذ کے گم ہو جانے سے انہیں بڑی تشویش ہوئی۔پھر فرمایا۔مجھے افسوس ہے کہ اس کی جستجو میں اس قدر دَوادُو اور تگاپو کیوں کیا گیا۔میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی بہتر ہمیں عطا فرمائے گا۔حیا ایک دفعہ کا ذکر ہے آپ کو سخت سر درد ہو رہا تھا۔پاس عورتوں اور بچوں کا شور و غل برپا تھا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ جناب کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی۔حضور نے فرمایا۔ہاں اگر چپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے۔مولوی صاحب نے عرض کی کہ پھر حضور کیوں حکم نہیں فرماتے۔حضورؑ نے فرمایا۔آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں۔میں تو کہہ نہیں سکتا۔چشم پوشی ایک خادمہ نے گھر سے چاول چرائے اور پکڑی گئی گھر کے سب لوگوں نے اس کو ملامت شروع کر دی۔اتفاقاً حضور اقدسؑ کا بھی اس طرف سے گزر ہوا۔واقعہ سنائے جانے پر حضورؑ نے فرمایا۔محتاج ہے۔کچھ تھوڑے سے اسے دے دو اور فضیحت نہ کرو۔اور خدا تعالیٰ کی ستاری کا شیوہ