ملفوظات (جلد 1) — Page 365
نیچے ہے تو طبیعت میں ایک اضطراب اور قلق سا پیدا ہوتا ہے۔اُس کی باتوں سے نفرت معلوم ہوتی ہے۔وہاں بیٹھنے اور سننے کو جی نہیں چاہتا بلکہ گھبراہٹ معلوم ہوتی ہے۔جب انسان اس قسم کی بے چینی اور بے لذّتی ایک حقّانی واعظ کی باتوں سے اپنے دل میں پائے تو اُس کو واجب ہے کہ وہ اپنی رُوح کی فکر کرے کہ وہ ہلاکت کے گڑھے پر پہنچی ہوئی ہے۔خدا کی باتوں سے بے لطفی اور بے ذوقی۔رُوحانی بیماریوں کا علاج اِس سے بڑھ کر دنیا میں ہلاک کرنے والی چیز کیا ہوگی، اس کا علاج کیا ہے؟ اس کا علاج استغفار، خدا کے حضور رجوع، اپنے گناہوں کی معافی کے لئے دعائیں اور اُن پر دوام۔اگر اس نسخہ کو استعمال کیا جائے تو مَیں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اس بے لطفی سے ایک لطف اور اس بے ذوقی میں سے ایک ذوق پیدا ہوجائے گا۔پھر وہی رُوح جو خدا کے حضور جانے سے بھاگتی اور خدا کی باتوں کے سننے سے نفرت کرتی تھی خدا کی طرف گیند کی طرح لڑھکتی ہوئی چلی جائے گی۔نفس کی تین اقسام نفس کی تین قسمیں ہیں اَمَّـارَۃ، لَــوَّامَــۃ، مُــطْــمَـئِنَّۃ۔مُطْمَئِنَّۃ کی ایک حالت نفسِ زکیّہ کہلاتی ہے۔نفسِ زکیہ بچوں کا نفس ہوتا ہے جس کو کوئی ہوا نہیں لگی ہوتی ہے اور وہ ہر قسم کے نشیب و فراز سے ناواقف ایک ہموار سطح پر چلتے ہیں۔نفس امّارہ وہ ہے جب کہ دنیا کی ہوا لگتی ہے۔نفس لوّامہ وہ نفس ہے جب کہ ہوش آتی ہے اور لغزشوں کو سوچتا ہے اور کوشش کرتا ہے اور بدیوں سے بچنے کے لئے دعا کرتا ہے۔اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہوتا ہے۔اور نفسِ مطمئنہ وہ ہوتا ہے جبکہ ہر قسم کی بدیوں سے بچنے کی بفضل الٰہی قوت اور طاقت پاتا ہے اور ہر قسم کی آفتوں اور مصیبتوں سے اپنے آپ کو امن میں پاتا ہے اور اس طرح پر ایک برودت اور اطمینان قلب کو حاصل ہوتا ہے۔کسی قسم کی گھبراہٹ اور اضطراب باقی نہ رہے۔دماغ، دل اور زبان کا دائرۂ کار اس کی مثال اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں تین قسم کی حکومت رکھی ہے۔ایک دماغ، دوسرا دل، تیسری زبان۔دماغ عقول اور براہین سے کام لیتا ہے اور اُس کا یہ کام ہے کہ ہر وقت وہ