ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 366

ایک تراش خراش میں لگا رہتا ہے اور نئی نئی براہین اور حجج کو سوچتا رہتا ہے۔اس کے سپرد یہی خدمت ہے کہ وہ مقدمات مرتب کرکے نتائج نکالتا رہتا ہے۔قلب تمام وجود کا بادشاہ ہے۔یہ دلائل سے کام نہیں لیتا۔چونکہ اس کا تعلق ملک الملوک سے ہے اس لیے کبھی صریح الہام سے کبھی خفی الہام سے اطلاع پاتا ہے۔یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دماغ وزیر ہے۔وزیر مدبّر ہوتے ہیں۔اس لئے دماغ تجاویز، اسباب، دلائل اور نتائج کے متعلق کام میں لگا رہتا ہے۔قلب کو اُن سے کام نہیں ہے۔اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے قوت حاسہ رکھی ہے جیسے چیونٹی جہاں کوئی شیرینی رکھی ہوئی ہو معاً اس جگہ پر پہنچ جاتی ہے حالانکہ اس کے لئے کوئی دلیل اس اَمر کی نہیں ہوتی کہ وہاں شیرینی ہے بلکہ خدا تعالیٰ نے اس میں ایک قوتِ حاسہ رکھی ہوئی ہوتی ہے جو اس کی رہبری کرتی ہے۔اسی طرح پر قلب کو چیونٹی کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ اس میں بھی وہ قوتِ حاسہ موجود ہے جو اس کی رہنمائی کرتی ہے اور وہ دلائل و براہین اور ترتیب مقدمات اور استخراج نتائج کی ضرورت نہیں رکھتا۔گو یہ امر دیگر ہے کہ دماغ اس کے لئے یہ اسباب اور اُمور بھی بہم پہنچا دیتا ہے۔قلب کے معنی قلب کے معنے ایک ظاہری اور جسمانی ہیں اور ایک رُوحانی۔ظاہری معنی تو یہی ہیں کہ پھرنے والا۔چونکہ دورانِ خون اسی سے ہوتا ہے اس لئے اس کو قلب کہتے ہیں۔روحانی طور پر اس کے یہ معنی ہیں کہ جو ترقیات انسان کرنا چاہتا ہے وہ قلب ہی کے تصرف سے ہوتی ہیں۔جس طرح پر دورانِ خون جو انسانی زندگی کے لئے ایک اشد ضروری چیز ہے اسی قلب سے ہوتا ہے اسی طرح پر روحانی ترقیوں کا اسی کے تصرف پر انحصار ہے۔قلب اور دماغ کی ماہیّت بعض نادان آج کل کے فلسفی بے خبر ہیں۔وہ تمام عمدہ کاروبار کو دماغ سے ہی منسوب کرتے ہیں مگر وہ اتنا نہیں جانتے کہ دماغ تو صرف دلائل و براہین کا ملکہ ہے۔قوتِ متفکرہ اور حافظہ دماغ میں ہے لیکن قلب میں ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے وہ سردار ہے یعنی دماغ میں ایک قسم کا تکلّف ہے اور قلب میں نہیں بلکہ وہ بلا تکلّف ہے۔اس لیے قلب رب العرش سے ایک مناسبت رکھتا ہے۔صرف قوتِ حاسہ