ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 364

اس بہاؤ میں وہ ایک ایسی لذّت اور سرور محسوس کرتی ہے جس کو مَیں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔پس وہ اپنے بیان اور اپنی تقریر میں وجہ اللہ کو دیکھتا ہے۔سامعین کی اُسے پروا بھی نہیں ہوتی کہ وہ سن کر کیا کہیں گے۔اس کو ایک اور طرف سے ایک لذّت آتی ہے اور اندر ہی اندر خوش ہوتا ہے کہ میں اپنے مالک اور حکمران کے حکم اور پیغام کو پہنچا رہا ہوں۔اس پیغام رسانی میں جو مشکلات اور تکالیف اُسے پیش آتی ہیں وہ بھی اُس کے لئے محسوس اللذّات اور مدرک الحلاوت ہوتی ہیں۔چونکہ بنی نوع کی ہمدردی میں محو ہوتے ہیں اس لئے رات دن سوچتے رہتے ہیں اور اسی فکر میں کڑھتے ہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اس راہ پر آجائیں اور ایک باراس چشمہ سے ایک گھونٹ پی لیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حددرجہ ہمدردی و غمگساری یہ ہمدردی، یہ جوش ہمارے سید و مولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں غایت درجہ کا تھا۔اس سے بڑھ کر کسی دوسرے میں ہوسکتا ہی نہیں۔چنانچہ آپ کی ہمدردی اور غمگساری کا یہ عالم تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ کھینچ کر دکھایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ (الشعرآء:۴) یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کردے گا اس غم میں کہ یہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔اس آیت کی حقیقت آپ پورے طور پر نہ سمجھ سکیں تو جدا اَمر ہے مگر میرے دل میں اس کی حقیقت یوں پھرتی ہے جیسے بدن میں خون۔بدل دردیکہ دارم از برائے طالبانِ حق نمے گرد دبیان آں درد از تقریر کوتاہم # میں خوب سمجھا ہوں کہ ان حقّانی واعظوں کو کس قسم کا جان گزا درد اصلاحِ خلق کا لگا ہوا ہوتا ہے۔متأثر ہونے کی اِستعداد پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ معلّم جس رنگ اور طاقت کا ہو اس کا اثر اسی حیثیت سے حسبِ استعداد سننے والوں پر ہوتا ہے بشرطیکہ استعداد میں قابلیت ہو۔جو لوگ خدا تعالیٰ سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں اور خوف اور خشیت رکھتے ہیں اُن پر اثر زیادہ ہوتا ہے۔اس کا نشان یہ ہے کہ روح تزکیۂ نفس کے لئے دوڑتی ہے اور بے اختیار ہو ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف جاتی ہے۔اگر نفسِ امّارہ کے ساتھ تعلق زیادہ ہے اور اس کی حکومت کے