ملفوظات (جلد 1) — Page 297
آخر وہ زور زور سے رونے لگا۔جس پر آپ نے سخت ناراضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار فرما کر کہا کہ بس کرو۔میں ایسے رونے کو جہنم کا موجب جانتا ہوں۔میرے نزدیک جو آنسو دنیا کے ہم و غم میں گرائے جاتے ہیں وہ آگ ہیں جو بہانے والے کو ہی جلا دیتے ہیں۔میرا دل سخت ہو جاتا ہے ایسے شخص کے حال کو دیکھ کر جو ایسے جیفہ کی تڑپ میں کڑھتا ہے۔مثالی توکّل کی کیفیت ایک دن مجلس مسیح موعودؑ میں توکّل کی بات چل پڑی، جس پر آپ نے فرمایا۔میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت حبس ہوتا اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ایسا ہی جب اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فرمایا کہ جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے جو ذوق و سرور خدا تعالیٰ پر توکل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔اور فرمایا۔ان دنوں میں جبکہ دنیوی مقدمات کی وجہ سے والد صاحب اور بھائی صاحب طرح طرح کے ہموم و غموم میں مبتلا رہتے تھے وہ بسا اوقات میری حالت دیکھ کر رشک کھاتے اور فرماتے تھے کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب آدمی ہے۔اس کے نزدیک کوئی غم نہیں آتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین رضی اللہ عنہما کا مقام ایک دفعہ ایک دوست نے جو محبت مسیح موعود ؑ میں فناشدہ ہیں آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیوں نہ ہم آپؑ کو مدارج میں شیخین سے افضل سمجھا کریں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب قریب مانیں؟ اللہ اللہ! اس بات کو سن کر حضرت اقدس علیہ السلام کا رنگ اڑ گیا اور آپ کے سراپا پر عجیب اضطراب وبیتابی مستولی ہو گئی۔میں خدائے غیور قدوس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس گھڑی نے میرا ایمان حضور اقدس کی نسبت اور بھی زیادہ کر دیا۔آپ نے برابر چھ گھنٹے کامل تقریر فرمائی بولتے وقت میں نے گھڑی دیکھی تھی اور جب آپ نے تقریر ختم کی۔جب بھی دیکھی۔