ملفوظات (جلد 1) — Page 296
شخص کو معلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے اور اس کا وجود خدا کے لئے، خدا کے رسول کے لئے، خدا کی کتاب کے لئے اور خدا کے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کو جو درد و الم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچتا ہے۔فرمایا۔ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے دلوں میں خدمت دین کی نیت باندھ لیں جس طرز اور رنگ کی خدمت جس سے بن پڑے۔پھر فرمایا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک قدر و منزلت اس شخص کی ہے جو دین کا خادم اور نَافع النَّاس ہے۔ورنہ وہ کچھ پروا نہیں کرتا کہ لوگ کتوں اور بھیڑوں کی موت مَر جائیں۔خدا تعالیٰ اور بندہ کا رابطہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ دو دوستوں میں دوستی اسی صورت میں نبھ سکتی ہے کہ کبھی وہ اس کی مان لے اور کبھی یہ اس کی۔اگر ایک سدا اپنی ہی منوانے کے درپے ہو جائے تو معاملہ بگڑ جاتا ہے۔یہی حال خدا اور بندہ کے رابطہ کا ہونا چاہیے۔کبھی اللہ تعالیٰ اس کی سن لے اور اس پر فضل کے دروازے کھول دے اور کبھی بندہ اس کی قضاء و قدر پر راضی ہو جائے۔حقیقت یہ ہے کہ حق خدا تعالیٰ کا ہی ہے کہ وہ بندوں پر امتحان ڈالے اور یہ امتحان اس کی طرف سے انسان کے فوائد کے لئے ہوتے ہیں۔اس کا قانون قدرت ایسا ہی واقع ہوا ہے کہ امتحان کے بعد جو اچھے نکلیں انہیں اپنے فضلوں کا وارث بناتا ہے۔دنیاوی امور میں کھویا جانا خسارتِ آخرت کا موجب ہوتا ہے ایک نوجوان شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دنیاوی مصائب کی کہانی شروع کی اور اپنے طرح طرح کے ہم و غم بیان کئے۔حضرت مسیح موعودؑ نے بہت سمجھایا اور فرمایا کہ ہمہ تن ان امور میں کھویا جانا خسارت آخرت کا موجب ہوتا ہے۔اس قدر جزع فزع مومن کو نہیں چاہیے۔