ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 298

پورے چھ ہوئے۔ایک منٹ کا فرق بھی نہ تھا۔اتنی مدت تک ایک مضمون کو بیان کرنا اور مسلسل بیان کرنا ایک خرق عادت تھا۔اس سارے مضمون میں آپ نے رسول کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیمات کے محامد و فضائل اور اپنی غلامی اور کفش برداری کی نسبت حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام سے اور جناب شیخین علیھما السلام کے فضائل مذکور فرمائے اور فرمایا۔میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں کا مداح اور خاکِ پا ہوں۔جو جزئی فضیلت خدا تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے وہ قیامت تک کوئی اور شخص پا نہیں سکتا۔کب دوبارہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی کو ایسی خدمت کا موقع ملے جو جناب شیخین علیہما السلام کو ملا۔۷۲؎ ۱۷؍اگست۱۸۹۹ء چند روز ہوئے بریلی سے ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں لکھا۔کیا آپ وہی مسیح موعود ہیں جس کی نسبت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے احادیث میں خبر دی ہے؟ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر آپ اس کا جواب لکھیں۔میں نے معمولاً رسالہ ’’تریاق القلوب‘‘ سے دو ایک ایسے فقرے جو اس کا کافی جواب ہوسکتے تھے لکھ دئے۔وہ شخص اس پر قانع نہ ہوا اور پھر مجھے مخاطب کرکے لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحبؑ خود اپنے قلم سے قسمیہ لکھیں کہ آیا وہ وہی مسیح موعود ہیں جس کا ذکر احادیث اور قرآن شریف میں ہے؟ میں نے شام کی نماز کے بعد دوات قلم اور کاغذ حضرت کے آگے رکھ دیا اور عرض کیا کہ ایک شخص ایسا لکھتا ہے۔حضرت نے فوراً کاغذ ہاتھ میں لیا اور یہ چند سطریں لکھ دیں۔میں نے پہلے بھی اس اقرار مفصّل ذیل کو اپنی کتابوں میں قسم کے ساتھ لوگوں پر ظاہر کیا ہے اور اب بھی اس پرچہ میں اس خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر لکھتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں دی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔الراقم مرزا غلام احمد عفااللہ عنہ واَیَّد ۱۷؍ اگست ۱۸۹۹ء