ملفوظات (جلد 1) — Page 281
کیونکہ اگر نری تلوار ہو تو وہ تو احقاقِ حق کے لئے کبھی آلہ بن نہیں سکتی۔کیا ایمان کبھی درشتی سے دلوں میں اتر سکتا اور حجت اللہ اکراہ سے کسی کے دل کو فریفتہ کر سکتی ہے؟ وہ تو اور بھی الزام کا موجب ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں بجز لٹھم لٹھا ہونے کے دلیل کوئی نہیں۔فرمایا۔آگے تھوڑا اور ناحق کا الزام لگاتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا اور اب یوں اسے سچا کر دینا چاہتے ہیں اور معمولی کرامات و معجزات سے بھی یورپ و دیگر نصاریٰ پر اثر نہیں پڑ سکتا اس لئے کہ ان میں لکھا ہے کہ بہت سے جھوٹے نبی آئیں گے جو نشان دکھائیں گے۔پھر اب کیا ہے بجز اس کے کہ کوئی ایسی حجت ظاہر ہو جس کے آگے گردنیں خم ہو جائیں اور وہ وہی راہ ہے جو خدا میرے ہاتھ سے پوری کرے گا۔مامور سے مقابلہ کی تین راہیں اور اس ہفتہ میں لاہوری ملہم صاحب کا خط آیا جس میں انہوں نے حضرت اقدسؑ اور آپ کے سلسلہ کے خلاف ایک دو پیشگوئیاں کی تھیں۔اس کے متعلق آپؑ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان لوگوں کی ہمدردی کے لئے کس قدر میرے دل میں تڑپ اور جوش ہے اور میں حیران ہوں کہ کس طرح ان لوگوں کو سمجھاؤں۔یہ لوگ کسی طرح بھی مقابلہ میں نہیں آتے۔تین ہی راہیں ہیں یا گذشتہ کے نشانوں سے میرے اپنے نشانوں کا مقابلہ کر لیں یا آیندہ نشانوں میں مقابلہ کر لیں یا اور نہیں تو یہی دعا کریں کہ جس کا وجود نافع الناس ہے وہ بموجب وعدۂ الٰہی وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ (الرّعد:۱۸) دراز زندگی پائے۔پھر عیاں ہو جائے گا کہ خدا کی نگاہ میں کون مقبول و منظور ہے۔خدائی الہام کا معیار فرمایا۔افسوس یہ لوگ چھوٹے چھوٹے معمولی الہامی ٹکڑوں اور خوابوں پر اترائے بیٹھے ہیں اور سمجھ نہیں سکتے کہ کسی الہام کے خدا کی طرف سے ہونے اور دخل شیطان سے پاک ہونے کا معیار کیا ہے؟ معیار یہی ہے کہ اس کے ساتھ نصرتِ الٰہی ہو اور اقتداری علم غیب اور قاہر پیش گوئی اس کے ساتھ ہو ورنہ وہ فضول باتیں ہیں جو نافع الناس نہیں ہو سکتیں۔