ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 282

فرمایا۔اگر کوئی شخص کسی جلسہ کے وقت دور بیٹھا ہوا کسی عظیم الشان بادشاہ کی باتیں معمولاً سن لے اور آکر کہے کہ میں نے فلاں بادشاہ کی باتیں سنی ہیں تو اس سے اسے اور دوسروں کو کیا حاصل؟ تقرب سلطانی کے بعد کی باتوں کے نشان اور ہی ہوا کرتے ہیں۔جنھیں دیکھ کر ایک عالم پکار اٹھتا ہے کہ فلاں درحقیقت بادشاہ کا مہبطِ کلام و سلام ہے۔فرمایا۔اگر میرے الہامات بھی ویسے ہی معمولی اور فضول ٹکڑے ہوتے اور ہر ایک میں علم غیب اور اقتداری پیشگوئیاں نہ ہوتیں تو میں انہیں محض ہیچ سمجھتا۔فرمایا۔بھلا کوئی لیکھرام والی پیش گوئی کے برابر کوئی ایک ہی الہام بتاوے۔فرمایا۔میرے الہاموں سے قوم کا فائدہ اوراسلام کا فائدہ ہوتا ہے اور یہی معیار بڑا بھاری معیار ہے جو ان کے منجانب اللہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔فرمایا۔میرے ساتھ خدا کے معاملات اور تصرفات اور اس کے نشان میری تائید میں عجیب ہیں کچھ تو میری ذات کے متعلق ہیں۔کچھ میری اولاد کے متعلق ہیں اور کچھ میرے اہل بیت کے متعلق ہیں اور کچھ میرے دوستوں کے متعلق ہیں اور کچھ مخالفوں کے متعلق ہیں اور کچھ عَامَۃُ النَّاس کے متعلق ہیں۔لاہوری ملہم کے مکرم دوستوں میں سے ایک حافظ صاحب کا پیغام پہنچا کہ وہ گزشتہ نشانوں کو بے پروائی سے دیکھتے ہیں اور ان کا حوالہ سننا نہیں چاہتے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔بار بار ملنے کی تلقین افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ خدا کی کوئی بات بھی ناقدر دانی کے قابل نہیں ہوتی۔ایک قوم کو کیا پہلے بھی خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ (العنکبوت :۵۲) کیا یہ گذشتہ نشان کا حوالہ نہیں۔فرمایا۔اب ایسا وقت ہے کہ ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ بہت دفعہ ملاقات کیا کریں تو کہ نئے نئے نشانوں کو دیکھنے سے جو روز بروز نازل ہوتے ہیں ان کے ایمان و تقویٰ میں ترقی ہو۔۶۷؎