ملفوظات (جلد 1) — Page 280
زیادہ تفصیل کا محل نہیں۔اس خط سے حضرت اقدس اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا۔اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے۔برادران! دینی بات پر یہ خوشی کیا یہ منجانب اللہ ہونے کا نشان نہیں؟ کون ہے آج جو اعلائے کلمۃ اللہ کی باتوں پر ایسی خوشی کرے؟ ایک رؤیا اور اس کی تعبیر ہمارے ایمان کی تجدید و تقویت کے لئے ایک نشان یہ ظاہر ہوا کہ ظہر کے وقت اچانک یہ خط آتا ہے اور صبح حضرت اقدس کو یہ رؤیا ہوتی ہے کہ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سلّمہا اللہ تعالیٰ گویا حضرت اقدسؑ کے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔حضرت اقدس رؤیا میں عاجز راقم عبد الکریم کو جو اس وقت حضور اقدس کے پاس بیٹھا ہے۔فرماتے ہیں کہ حضرت ملکہ معظمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور دو روز قیام فرمایا ہے۔ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔اس رؤیا کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت کے ساتھ کوئی نصرتِ الٰہی شامل ہوئی چاہتی ہے اس لئے کہ حضرت ملکہ معظمہ کا اسم مبارک وکٹوریہ ہے جس کے معنی ہیں مظفرہ منصورہ اور نیز چونکہ اس وقت حضرت ملکہ معظمہ کُل روئے زمین کے سلاطین میں سب سے زیادہ کامیاب اور خوش نصیب ہیں اس لئے آپ کا مہربانی کے لباس میں آپ کے مکان میں تشریف لانا بڑی برکت و کامیابی کا نشان ہے۔خدا کا علم و قدرت دیکھیے۔ظہر کے وقت اس رؤیا کی صحیح تعبیر پوری ہو گئی۔اللہ اللہ! اس سے زیادہ نصرت کیا ہے کہ ایسے سامان مل رہے ہیں کہ جن سے دنیا کے کل نصاریٰ پر خدا کی روشن حجت پوری ہوتی ہے۔مسیح موعود کا مشن حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا۔میں حیران ہوتا ہوں کہ ان کا فرضی مسیح اَور کام کیا کرتا یا کرے گا؟ اس کی اوقات زندگی کی یہی تقسیم بتاتے ہیں کہ دن کا ایک حصہ تو لکڑی یا لوہے یا پیتل یا سونے چاندی کی صلیبوں کے توڑنے میں بسر کرے گا اور ایک حصّہ سؤروں کے قتل کرنے میں صرف کرے گا۔بس یہی کہ کچھ اور بھی؟ فرمایا۔یہ لوگ نہیں سوچتے کہ وہ بات کیا ہو جس سے اتنے کروڑ نصاریٰ پر حجت حق پوری ہو