ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 279

۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء سے قبل مجھے خوب یاد ہے کہ جس روز ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ صاحب قادیان میں حضرت کے مکان کی تلاشی کے لئے آئے تھے اور قبل از وقت اس کا کوئی پتہ اور خبر نہ تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔اللہ تعالیٰ مامورین کی رسوائی پسند نہیں کرتا اس کی صبح کو کہیں سے ہمارے میر صاحب نے سن لیا کہ آج وارنٹ ہتھکڑی سمیت آوے گا۔میر صاحب حواس باختہ سرازپا نشناختہ حضرت کو اس کی خبر کرنے اندر دوڑے گئے اور غلبہ رقت کی وجہ سے بصد مشکل اس ناگوار خبر کے منہ سے برقع اتارا۔حضرت اس وقت نور القرآن لکھ رہے تھے اور بڑا ہی لطیف اور نازک مضمون در پیش تھا۔سر اٹھا کر اور مسکرا کر فرمایا کہ میر صاحب! لوگ دنیا کی خوشیوں میں چاندی، سونے کے کنگن پہنا ہی کرتے ہیں۔ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا۔مگر ایسا نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں وہ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا۔۶۶؎ ۱۰ ؍جولائی ۱۸۹۹ء (ہفتہ مختتمہ) ایک دینی خوشخبری پر بے پایاں مسرت اِس ہفتہ میں سب سے عجیب اور دلچسپ بات جو واقع ہوئی اور جس نے ہمارے ایمانوں کو بڑی قوت بخشی وہ ایک چٹھی کا حضرت کے نام آنا تھا۔اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا ہے کہ جلال آباد (علاقہ کابل) کے علاقے میں یوز آسف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے۔